انٹرنیٹ ایکسپریس، کشمیریوں کو دنیا سے جوڑنے والی ٹرین

ہر روز سخت سردی میں سینکڑوں کشمیری نوجوان سرینگر سے ٹرین پکڑ کر تقریباً 100 کلومیٹر دور بنی ہال کے قصبہ میں جاتے ہیں جہاں گورنمنٹ کی طرف سے نصب انٹرنیٹ بوتھز میں انٹرنیٹ کی سہولت استعمال کرتے ہیں

اٹھارہ سالہ احمد بھی انہی سینکڑوں نوجوانوں میں شامل ہے جو کھچا کھچ بھری ہوئی ٹرین پر فقط انٹرنیٹ استعمال کرنے کے لئے سفر کرتے ہیں

احمد اپنے گھر کا واحد کفیل ہے اسکے والد جو ایک مزدور تھے ایک حادثے میں اپنی ایک ٹانگ سے محروم ہو چکے ہیں

اگست 2018 میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد مرکزی سرکار نے کشمیریوں کو بنیادی حقوق کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ سے بھی محروم کر دیا تھا۔

گو کہ اقوام متحدہ کے 2016 کے ڈیکلریشن کے مطابق انٹرنیٹ کی فراہمی بھی بنیادی انسانی حقوق میں شامل ہے، لیکن مودی سرکار نے کشمیریوں کا یہ بنیادی حق بھی غصب کر لیا ہے

انٹرنیٹ کی معطلی نے صرف احمد ہی نہیں بلکہ ہزاروں لوگوں کی زندگیوں کو اجیرن کر دیا ہے، کشمیر میں چلنے والی ایک کورئیر کمپنی کے مینیجر کے مطابق انٹرنیٹ نہ ہونے کی وجہ سے پچاس سے زیادہ لڑکے نوکری سے نکالے جا چکے ہیں

سیاحت کو کشمیر کی اکانومی کی ریڑھ کی ہڈی مانا جاتا ہے، ہر سال سینکڑوں لوگ ہندوستان کے طول و عرض سے کشمیر کی خوبصورتی دیکھنے آتے تھے،
سیاحت کی وجہ سے ہزاروں لوگوں کا روزگار چلتا تھا، جن میں سر فہرست ہوٹل مالکان اور ڈل جھیل میں کشتی گھروں کے مالکان شامل ہیں مگر کرفیو کے بعد تقریباً چار ہزار کشتی مالکان بیروزگار ہو چکے ہیں

انٹرنیٹ کی عدم فراہمی نے کشمیری معیشت کو قریب 2.4 بلین ڈالرز کا نقصان پہنچایا ہے جس میں سر فہرست آئی ٹی کا کام ہے، اسکے بعد سب سے زیادہ سیاحت متاثر ہوئی ہے،

جمہوری دنیا میں انٹرنیٹ کا سب سے بڑا اور طویل بریک ڈاؤن کرنے والا بھارت 2018 میں دنیا میں شٹ ڈاؤنز کا دو تہائی حصہ بھی رکھتا ہے،

گو کہ اس شٹ ڈاؤن اور کرفیو کو بھارتی حکومت عوامی فلاح سے تعبیر کرتی ہے مگر حقیقتاً اس شٹ ڈاؤن نے کشمیریوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا ہے،

جدید دنیا میں یہ مفروضہ نہ قابل قبول ہے کہ تشدد کو روکنے کے لئے آپ ایک پوری آبادی یعنی کروڑوں لوگوں کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم کر دیں


  • 24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept

    >