کرنل انعام جاسوس نکلے۔۔سپریم کورٹ میں خوفناک انکشافات

کلبھوش کے بعد پاکستان دشمنوں کا ایک اور نیٹ ورک پکڑے جانے کا بڑا دعویٰ ۔۔۔۔ کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم ایڈووکیٹ بیرونی قوتوں کے جاسوس ہیں۔۔سپریم کورٹ میں اٹارنی جنرل کا خوفناک انکشاف ۔۔سنیئے مکمل سماعت کا آنکھوں دیکھا حال

سپریم کورٹ میں ہونیوالی کاروائی سے متعلق انکشاف کرتے ہوئے صدیق جان نے کہا کہ اٹارنی جنرل انورمنصور خان نے عدالت میں ایسے خوفناک انکشافات کئے کہ سپریم کورٹ کو لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کرنا پڑا۔ وزارت دفاع نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ یہ معاملہ حساس ہے اسے اوپن نہ سناجائے بلکہ چیمبر میں سناجائے جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ آخر ایسا معاملہ کیا ہے جس پر انورمنصور خان نے انکشاف کیا کہ کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم ایک جاسوس ہیں۔۔

صدیق جان کا کہنا تھا کہ کلبھوشن یادیو کے بعد ایک اور بڑے جاسوسوں کے نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو مزید بتایا کہ وہ اکیلے نہیں بلکہ ان کا پورا نیٹ ورک ہے، انہوں نے آئی ایس آئی اور جوہری پروگرام سمیت حساس معلومات افشا کیں اور آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کی، ان کے نیٹ ورک کے کئی لوگ گرفتار ہوچکے ہیں جن میں سے ایک کو پھانسی بھی ہوئی، جبکہ مزید لوگ بھی گرفتار ہونگے

جس پر سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے حکم دیا کہ بادی النظرمیں انعام الرحیم کیخلاف موادموجودہے، تحقیقات مکمل ہوتےہی انعام الرحیم کوقانونی معاونت فراہم کی جائے۔

صدیق جان نے بتایا کہ کرنل انعام جنرل باجوہ ایکسٹنشن کیس میں بھی بہت ایکٹیو نظر آئے اور ججز کو لقمے دیتے نظر آئے۔ کرنل انعام کا مقدمہ لڑنے والے جماعت اسلامی اور افتخارچوہدری کے وکلاء تھے۔ کرنل انعام کے پاس سے نیوکلئیر اثاثوں اور آئی ایس آئی سےمتعلق ایسی خفیہ دستاویزات موجود تھیں جس کی کسی کو رسائی حاصل نہیں۔اشاروں میں یہاں تک بتایا گیا کہ انہوں نے یہ چیزیں بیرون ملک بھی ٹرانسفر کی ہیں۔


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept

>