درآمد شدہ کاروں میں ٹیکس چوری کا معاملہ،ایم جی کیپٹل ایف بی آر کے نشانے پر آ گئی

درآمد شدہ کاروں میں ٹیکس چوری کا معاملہ،ایم جی کیپیٹل ایف بی آر کے نشانے پر آ گئی

چین سے پاکستان لائی گئی کاروں میں 1 ارب سے زائد کی ہیرا پھیرا کا انکشاف

میڈیا رپورٹس کے مطابق چین سے پاکستان درآمد کی گئی کاروں میں انڈر انوائسنگ کے میگا سکینڈل میں 1 ارب سے زائد کی ہیرا پھیرا کا انکشاف ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے کاریں بنانے والی ایم جی کیپیٹل نامی کمپنی کے خلاف درآمد شدہ کاروں میں 1 ارب روپے سے زائد کی ہیرا پھیری کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے شنگھائی چائنا سے متعلق بھی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، ہیرا پھیری کے سکینڈل میں وزارتوں اور تحقیقاتی ایجنسی کو بھی اعتماد میں لے لیا گیا ہے جبکہ درآمد کی گئیں 400 کاروں کی انڈر انوائسنگ کے ایف بی آر کو شواہد مل گئے ہیں۔

یاد رہے کہ چین سے کاریں امپورٹ کرنے والی ایم جی کیپیٹل کمپنی پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی کی ملکیت ہے، ایم جی کیپیٹل کمپنی نے ایم جی ایچ ایس ماڈل کی ایک کار کی قیمت 11 ہزار 632 ڈالر ظاہر کی ہے، جب کہ دنیا میں اس کار کی قیمت 27 ہزار ڈالر ہے۔

دوسری جانب ایم جی کمپنی پر ہیر پھیر کا الزام سامنے آنے پر معروف بزنس مین اور ایم جی کپیٹیل  کے مالک جاوید آفریدی کی جانب سے بھی سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔

جاوید آفریدی کا اپنے ردعمل میں کہنا ہے کہ "‏ایک عرصہ تک پاکستان کی آٹو مارکیٹ کے کسٹمرز کا یہاں مخصوص کاروباری سامراج اور استحصالی طبقہ انتہائی زیادہ قیمتوں کے ساتھ نہایت ہی پست درجے اور بوسیدہ ماڈلز کی گاڑیوں کے ساتھ استحصال کر رہا تھا”

انہوں نے کہا کہ "‏اس استحصالی مارکیٹ میں عوام کو خریدی گئی گاڑیوں کے محض حصول کے لئے اربوں روپے مارکیٹ مافیا کے نذر کرنے پڑتے۔ عوام کے مشکلات کا مداوا کرنےاور ان کو آسان قیمتوں پر نہایت اعلی معیار کی گاڑیوں کی فراہمی کے لئے مارکیٹ میں ایک نئے کردار نے قدم رکھا”

جاوید آفریدی کا ٹویٹر پر جاری اپنے پیغام میں کہنا ہے کہ "‏آٹو مارکیٹ کے اس خوبصورت انقلاب کا مقابلہ کرنے کی بجائےمخالفین نے افواہوں اور اخلاق سے گرے ہوئے الزامات کا سہارا لینا مناسب سمجھا ۔کیونکہ میدان میں مقابلہ کرنے کے لئے نہ تو انکے پاس معیار تھا نہ صلاحیت”


ٹویٹر پر جاری اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ "‏مگر ہم پاکستان کے آٹو انڈسٹری میں مقابلے اور دیانتدارانہ مقابلے کی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں اگرچہ یہ سوچ ہمارے ملک میں بدقسمتی سے ناپید ہے مگر ہم اس سوچ کے ساتھ مارکیٹ کے کردار ،معاملات ،عوام کے ساتھ برتاو میں انقلاب لانا چا ہتے ہیں”


انہوں کے مزید کہا کہ "‏آئیں ایمانداری اور مقابلے کے جذبے سے لیس ہوکر ہم اس مارکیٹ کو کوالٹی کا نشان، عوام کی بہتر خدمت کے لئے مثال اور آسان قیمتوں پر بہترین گاڑیوں کی فراہمی کے لئے ایک جانا پہچانا نام بنا دیں”

  • اگر دوسرے عوام کو لوٹتے رہے تواس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ بھی یہی کام شروع کردیں، اگر تو اس کار کی قیمت کسٹمر سے گیارہ ہزار ڈالر لے رہے تھے پھر تو ٹھیک ہے اور اگر وہی چالیس پچاس لاکھ لے رہے تھے تو پھر دوسروں کی طرح تم بھی چور ہو اور چور کی ٹیم بھی پی ایس ایل نہیں کھیل سکتی ورنہ اسکینڈل بن جاے گا ملک کی بدنامی ہوگی


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >