نئی گاڑیوں پر "اون منی” تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

نئی گاڑیوں پر "اون منی" تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

نئی گاڑی فوری طور طور پر حاصل کرنے کیلئے دیئے جانے والے "اون” کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جس کے بعد یہ شرح تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں گاڑیاں فروخت کرنے والی کمپنیوں کو سپلائی چین کے متعدد مسائل کا سامنا ہے جس کے باعث نئی گاڑی بک کروانے کے بعد صارف کو گاڑی کی فراہمی کیلئے کافی لمبا عرصہ انتظار کرنا پڑتا ہے۔

کچھ صارفین جو فوری طور پر گاڑی حاصل کرنے کے خواہشمند ہوتے ہیں وہ کار ڈیلرز کے ہاتھوں مجبور ہوتے ہوئے گاڑی کی اصل قیمت کے علاوہ لاکھوں روپے "اون” کی مد میں ادا کرتے ہیں۔

کار ڈیلرز اون کی مد میں غیر قانونی طور پر منافع کمانے کیلئے بھی صارفین کو گاڑی کی فراہمی میں تعطل پیدا کرتے ہیں تاکہ صارف تنگ آکر اون دے کر گاڑی حاصل کرنے کیلئے حامی بھر لے۔

آٹو مارکیٹ میں اون منی ایک معمول کی بات ہے اور اس کے باقاعدہ طور پر ہر گاڑی کے حساب سے الگ الگ ریٹس ہیں، مثال کے طور پر نئی ماڈل کی ہنڈا سٹی کا آٹو میٹک ویرئنٹ خریدنے کے خواہش مند افراد اگر ابھی گاڑی بک کروائیں تو انہیں مارچ تک گاڑی نہیں ملے گی، فوری طور پر گاڑی حاصل کرنے کے خواہشمند افراد گاڑی کی قیمت کے علاوہ 3 لاکھ روپے اضافی دیں تو گاڑی ایک ہفتے کے اندر اندر انہیں فراہم کردی جائے گی۔

سرمایہ کاروں اور آٹو سیکٹر کے ڈیلرز نے اس غیر قانونی دھندے میں اپنا پیسہ انویسٹ کرکے صارفین پر اضافی بوجھ ڈال رکھا ہے، مختلف کار ڈیلرز گاڑیاں بک کرواکے رکھتے ہیں اور جیسے ہی کوئی صارف اون منی دینے پر رضامندی کااظہار کرتا ہے اپنی پہلے سے بک کروائی گئی گاڑی اس شخص کے حوالے کرکے اس کی جیب سے لاکھوں روپے اینٹھ لیے جاتے ہیں۔

نجی خبررساں ادارے کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس وقت سوزوکی آلٹو پر اون منی 1 لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ، کلٹس پر دو لاکھ،ٹیوٹا یارس پر 75 ہزار ، ہنڈا سٹی پر 3 لاکھ، ٹیوٹا فارچونر پر 10 لاکھ جبکہ چنگان ایلسون اور ہیونڈائی ایلانٹرا پر ڈیڑھ ،ڈیڑھ لاکھ روپے اون منی کا ریٹ ہے۔

  • یہ رپورٹ ١٠٠ فیصد سچ ہے اصل یہ بڑے کار ڈیلرکمپنی سے اوپن بکنگ کرواتے ہین اور کسٹومر کو اپنی باری کا انتظار کرنے کو کہتے ہیں تو کسٹومر بیچارہ اپنی ہی گاڑی کا من مانااون ایسا کمپنی اور ڈیلرس کی ملی بھگت سے ہو رہا ہے مثال کے طور کپمپنی گاڑیوں کے ریٹ بڑہانے کی بات میڈیا پر کرتا ہے اور کسٹومر کار ڈیلر پر اعتماد کرکے جلدی سے گاڑی بک کرواتا ہے اور کمپنی کے پاس پٸسہ چلا جاتا ہے تو کار ڈیلر پہلے اوپن بکنگ کی گاڑیاں ڈلیوری لے لیتا ہے اور کسٹومر کی گاڑی لیٹ ہوجاتی ہے اور
    کسٹومر اون دینے پر مجبور ہوتا ہے اس طرح ہم بھی پاک سوزوکی میں گاڑی بک کروا کر بلیک میل ہورہے ہیں


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >