نیپال میں پی آئی اے کا طیارہ کیسے اور کیوں کریش ہوا؟ نیشنل جیو گرافکس کی ڈاکومنٹری

ستمبر 1992میں نیپال کے پہاڑوں میں کریش ہونے والےپاکستانی مسافر طیارے کی تحقیقات منظر عام پر آگئیں

Pakistan Airlines 268 (Kathmandu Descent)

Pakistan International Airlines Flight 268 was an Airbus A300, registration AP-BCP, which crashed on approach to Kathmandu's Tribhuvan International Airport on 28 September 1992. All 167 people on board were killed. It is the deadliest aviation crash to occur on Nepalese soil.

Posted by Mayday Air crash investigations on Friday, January 24, 2020

نیپال کے دارالخلافہ  کھٹمنڈو جاتے ہوئے پاکستانی طیارہ اچانک سامنے آنے والے پہاڑ سے ٹکرا گیا تھا جس سے جہاز میں موجود تمام 167 مسافر جاں بحق ہوگئے تھے۔

حادثے کی تحقیقات  سے صورتحال واضح ہوگئی ہےکہ پی آئی اے کی فلائٹ اے 300 کراچی سے نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو جارہی تھی۔ نیپال اونچے پہاڑوں کا ملک ہے جہاں دنیا کی سب سے اونچا پہاڑ ماؤنٹ ایورسٹ واقع ہے، اور انہی میں سے ایک پہاڑ اس روز ایک دل دہلا دینے والے حادثے کا سبب بن گیا۔

جہاز میں موجود مسافروں میں بہت سے نیپال انہی پہاڑوں کوسر کرنے کی آرزو لیے کھٹمنڈو کی طرف پرواز کررہے تھے،روٹ کے دوران پائلٹ کو بادلوں کے باعث دشواری پیش آئی تو پائلٹ نے روٹ تبدیل کرنےکیلئے کھٹمنڈو ٹریفک کنٹرول سے رابطہ کیا اور سگنل ملتے ہی جہاز میں سیٹ بیلٹ باندھنے کیلئے اعلان کیا گیا اور جہاز کو نیچے اتارا جانے لگا۔ پہاڑوں کے ایک تسلسل کے باعث جہاز کی اونچائی اور نیچے اتارنے کا مرحلہ انتہائی اہم تھا کیونکہ اس وقت کھٹمنڈو ٹریفک کنٹرول کے پاس کسی قسم کا ریڈار نہیں تھا اور انہیں صرف اور صرف جہاز کے عملے کی جانب سے فراہم کردہ معلومات پر ہی اکتفا کرنا تھا، ایئرپورٹ کے قریب آتے آتے جہاز کو پہاڑوں کو کراس کرتے ہوئے ایسے نیچے اترنا تھا جیسے جہاز کوئی سیڑھیاں اتر رہا ہو، جہاز کے پائلٹ اور عملے نے روٹ تبدیل کرنے کے بعد جہاز کی اونچائی اور حدود اربع کھٹمنڈو ایئر ٹریفک کنٹرول کے نمائندے کو بتاتے ہوئے لینڈنگ کی اجازت مانگی، جہاز رن وے سے دس منٹ کی دوری پر تھا، ایئر ٹریفک کنٹرولر نے رن وے نمبر ایک پر جہاز کو لینڈنگ کی اجازت دی اور جہاز کے آنے کا انتظار کرنے لگا۔ تین منٹ گزرنے کے بعد جہاز سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا تو ایئر ٹریفک کنڑول سینٹر میں موجود افسر کو تشویش ہوئی، اس نے جہاز سے رابطہ کرنے اور اپنی پوزیشن واضح کرنے کیلئے متعدد بار کال دی، لیکن دوسری جانب صرف خاموشی تھی۔

ہر گزرتے منٹ کے ساتھ تشویش بڑھنے لگی لیکن جہاز سے کوئی رابطہ نہ ہوسکا، جہاز ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں لاپتہ ہوچکا تھا۔

کھٹمنڈو ایئر پورٹ نے یہ پتا لگانے میں ذیادہ وقت نہیں لگایا کہ پی آئی اے کا طیارہ تباہ ہوچکا ہے، ایک گھنٹے میں جہاز کا ملبہ دریافت ہوگیا، جہازمیں موجود ایندھن نے سب کچھ جلا کے راکھ کردیا۔ اس حادثے کی وجوہات اور تمام تفصیلات پر مبنی یہ ویڈیو دیکھیں

 

  • ایک انھی دے پتر نے جہاز مارگلہ ہلز میں دے مارا تھا اور دوسرے نے نیپال ائرپورٹ پر اترتے وقت پہاڑوں میں دے مارا
    اکیلا ٹیک آف اور لینڈنگ پر فخر کرنے سے کچھ نہیں ہوتا ان کو تربیت کیلئے یورپ بھجوایا جانا ضرورہے اور تجربہ کار پائلٹس کے بغیر کسی کو باہر نہ بھجوایا جاے


  • 24 گھنٹوں کے دوران 🔥

    View More

    From Our Blogs in last 24 hours 🔥

    View More

    This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept

    >