پاکستان میں کم ازکم 50 پائلٹ جعلی فلائنگ لائسنس یافتہ تھے، کیا یہ کم المیہ تھا؟

پی آئی اے کا 50 مصدقہ جعلی لائسنس ہولڈر پائلٹس ہونے کا اعتراف، کن وجوہات کی بنا پر جعلی لائسنس ہولڈر پائلٹس کی نشاندہی نہ ہو سکی؟ تفصیلات جانیئے کامران خان سے

 

پاکستان میں کم ازکم 50 پائلٹ جعلی فلائنگ لائسنس یافتہ تھے! کیا یہ کم المیہ تھا؟ اعتراف پھربیخ کنی تعریف ہونی چاہیے!

پاکستان میں کم ازکم 50 پائلٹ جعلی فلائنگ لائسنس یافتہ تھے!کیا یہ کم المیہ تھا؟ اعتراف پھربیخ کنی تعریف ہونی چاہیے!سول ایویشن اتھارٹی غلیظ نظام کی حتمی صفائی کرے!

Posted by Kamran Khan on Wednesday, January 27, 2021

کامران خان کے مطابق طویل عرصہ کے بعد مختلف اعداد و شمار سننے کے بعد آخر کار پی آئی اے نے اعتراف کر لیا ہے کہ پی آئی اے میں 50 مصدقہ جعلی لائسنس ہولڈر پاِلٹس جہاز اڑا رہے تھے، جس کی تصدیق سول ایوی ایشن کی جانب سے بھی کی گئی ہے، اس دوران انہوں نے اس بات کا بھی علم ہوا کہ 32 پائلٹس ہیں جنہوں نے لائسنسنگ کا امتحان ملی بھگت سے دے تھا، جو طریقے سے پاس کیے گئے تھے۔

کامران خان کے مطابق قومی ایئرلائن پی آئی اے میں پچاس ایسے پائلٹس تھے جو جہاز تو اڑا رہے تھے لیکن وہ اس کے اہل نہیں تھے، الامان الحفیظ یہ ایک تشویشناک بات ہے، اپنی گفتگو میں انہوں نے سوال اٹھایا کہ سول ایوی ایشن کا کیسا نظام تھا؟ جس میں جعلی لائسنس جاری کیے جا رہے تھے اور یہ بھی ایک المیہ تھا کہ جعلی لائسنس کا کیوں پتہ نہیں چل پا رہا تھا؟

انہوں نے بتایا کہ 22 مئی 2020 کو قومی ایئرلائن کا طیارہ لاہور سے کراچی آتے ہوئے ائیرپورٹ سے چند میل کے فاصلے پر حادثے کا شکار ہوگیا تھا، جس میں 97 مسافر جاں بحق ہوگئے تھے، حادثہ کے بعد 24 جون کو وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان نے پارلیمان نے کہا تھا کہ پاکستان میں 860 فعال پائلٹس ہیں، جن میں سے 262 پائلٹس کے لائسنس سے جعلی ہے جس پر پوری دنیا میں تہلکہ مچ گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس تمام صورتحال میں اچھی بات یہ ہے کہ سول ایوی ایشن نے اپنی غلطی کا اعتراف کیا ہے اور اب اس معاملے کی بیخ کنی کی جا رہی ہے لیکن صرف پائلٹس کے لائسنس ہی منسوخ کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، سول ایوی ایشن اتھارٹی کو اس غلیظ نظام کی حتمی صفائی کرنی ہوگی، جس کی غلاظت کی خبریں پوری دنیا میں پھیل چکی ہیں اور پاکستان کی اس سلسلے میں بے حد بدنامی ہوئی ہے جو ابھی بھی جاری ہے۔

کامران خان کے پروگرام میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سول ایوی ایشن امور کے ماہر ونگ کمانڈر ریٹائرڈ وسیم احمد کا کہنا تھا کہ ہوا بازی میں لائسنس سیفٹی کا سب سے پہلا پہلو ہوتا ہے اور پائلٹ سے اور انجینئرز کے لائسنس الینگجل ون کے تحت جاری ہوتے ہیں اور اگر یہاں پر ہی غلطی ہو جائے تو پھر پورے نظام پر سوالیہ نشان لگتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میری معلومات کے مطابق سول ایوی ایشن نے جنوری 2019 سے پہلے جعلی لائسنس کے معاملے کا سراغ لگا کر جعلی لائسنس ہولڈر پائلٹس کے خلاف کارروائی کر کے معاملے کو حل کر لیا تھا، اصل المیہ یہ ہے کہ جب ایک مسئلہ ان ہاؤس حل کرلیا گیا تھا تو اسے دوبارہ کیوں اٹھایا گیا اور وہ بھی ایسے غلط موقع پر جب قومی ائیر لائن کے جہاز کو پیش آیا حادثے کے نتیجے میں 97 مسافر جاں بحق ہوگئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان کے پارلیمان میں ایک بیان کی وجہ سے پوری دنیا میں پاکستان کے پائلٹس جنہوں نے ریکارڈ قائم کر رکھے تھے ان کو ایسے دیکھا جانے لگا کہ جسے انہوں نے کوئی جرم کیا ہو، وفاقی وزیر برائے ہوابازی کے بیان کی وجہ سے یورپی یونین سیفٹی ایجنسی کی جانب سے پروازوں اور پائلٹس پر پابندی عائد کردی گئی۔ جس کی وجہ سے پی آئی اے کی پوری دنیا میں جگ ہنسائی ہوئی۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >