آپریشن سوئفٹ ریٹورٹ، 27 فروری 2019 کو کیا ہوا تھا؟تفصیلی ٹائم لائن

 

27 فروری 2019 پاکستان کی تاریخ میں فتح کے دن کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ اس روز پاکستانی شاہینوں نے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا اور ان کے دو طیارے گرائے جبکہ ایک پائلٹ کو گرفتار کر لیا۔ اس دن کو آپریشن سوئفٹ ریٹورٹ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ 

سب سے پہلے آپ کو اس واقعے کا مختصر بیک گراونڈ بتاتے ہیں۔ یہ تمام واقعہ 26 فروری کی رات کو شروع ہوا جب اچانک ٹی وی چینل پر خبریں چلنا شروع ہوئیں کہ بھارت نے پاکستان کی سرحد کے اندر داخل ہو کر بم گرائے ہیں۔ ابھی یہ خبریں چل ہی رہی تھی کہ پاکستانی افواج کے اس وقت کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے پریس کانفرنس میں تصدیق کی کہ بھارتی جہازوں نے پاکستان کی حدود میں بالاکوٹ کے ایک جنگل میں بم گرائے ہیں جن سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ بعد میں پتا چلا کہ اس فضائی حملے میں ایک کوا مر گیا تھا۔ 

جنرل آصف غفور نے بھارتی آپریشن کی مکمل تفصیل بھی عوام کے سامنے رکھی یہ بھی شاید تاریخ میں پہلی بار ہو رہا تھا کہ حملہ کرنے والے نے ابھی تک کوئی دعویٰ نہیں کیا تھا مگر ڈی جی آئی ایس پی آر نے بذات خود آکر عوام کو بتایا کہ بھارت نے جارحیت کی ہے۔ 

بھارت نے 25 اور 26 فروری کی درمیانی رات کو تین بار لائن آف کنٹرول کراس کرنے کی کوشش کی۔ سیالکوٹ سیکٹر میں پاک فضایہ کے 6 سے 7 طیاروں نے بھارتی طیاروں کو واپس بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ دوسری جانب تقریبا اسی وقت اوکاڑہ بہاولپور بارڈر سے پاک فضائیہ نے بھارتی طیاروں کو واپسی کی راہ دکھائی۔ تیسری کوشش کشمیر کی جانب سے کی گئی۔ یہاں سے وہ چار سے پانچ میل اندر آنے میں کامیاب ہوئے اور جلدی سے پے لوڈ پھینک کر فرار ہوگئے۔ لائن آف کنٹرول کی جانب سے ہندوستان کے 14 جنگی جہاز آئے تھے جنہیں پاکستانی ایئر فورس کے چار طیاروں نے واپسی پر مجبور کر دیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں بھارت سے مخاطب ہو کر کہا کہ اب ہمارے سرپرائز کا انتظار کریں اور یہ سرپرائز بہت مختلف آئے گا۔ اس پریس کانفرنس کے بعد ہندوستان نے سرکاری طور پر پاکستان پر حملہ کرنے کا اعتراف کیا۔ ساتھ ہی یہ مضحکہ خیز دعوی بھی کیا کہ یہ پلوامہ کا بدلہ تھا جس میں دہشت گردوں کے ٹریننگ سینٹر پر حملہ کیا گیا۔ بھارت نے سینکڑوں افراد کو ہلاک کرنے کا بھی دعویٰ کیا۔ 

اب آپ کو بتاتے ہیں کہ اس حملے کے بعد پاکستان میں اعلیٰ سطح پر کیا سرگرمیاں ہوتی رہیں۔

بھارت کی جانب سے پے لوڈ گرانے کے چند لمحے بعد ہی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل مجاہد انور خان اور وزیراعظم عمران خان کا ہاٹ لائن پر رابطہ ہوا۔ 25 اور 26 فروری کی درمیانی رات ساڑھے تین بجے وزیراعظم جب یہ بات چیت کر رہے تھے تو ان کا پہلا سوال تھا کہ کیا کوئی جانی نقصان ہوا؟ اس کے بعد اس بات پر غور کیا گیا کہ جواب دن کی روشنی میں دینا ہے یا رات کی تاریکی میں؟ فیصلہ یہ ہوا کہ اس کا جواب دن کی روشنی میں دیا جائے گا۔ اس کے بعد ایک ہائی لیول میٹنگ ہوئی جس میں وزیراعظم، چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی، آرمی چیف، ایئر چیف اور پاک بحریہ کے سربراہ موجود تھے۔ اس اہم ترین میٹنگ میں بھارتی حملے آور پاکستان کے ممکنہ جوابی وار کے متعلق بات کی گئی۔ وزیراعظم اور ان کی سکیورٹی ٹیم نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کی جوابی کارروائی بھارت سے تین گناہ زیادہ ہوگی۔ تمام سروسز چیف نے وزیراعظم کو یقین دلایا کہ وہ بھارت کو شدید نقصان پہنچانے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ صبح ہونے سے پہلے پاکستانی فوج کے افسران اور جوان اس جگہ پر پہنچ چکے تھے جہاں بھارتی جہاز پے لوڈ گرا کر بھاگ گئے تھے، یہاں صرف چند درختوں کو نقصان پہنچا تھا۔ پاکستان نے جواب دینے کے لیے جو منصوبہ بنایا اس کا نام تھا آپریشن سوئفٹ ریٹورٹ ۔ یعنی فوری منہ توڑ جواب ۔

وزیراعظم کے گو اہیڈ کے بعد ایکشن شروع ہوچکا تھا۔ ہندوستان کے دعوے تو کسی نے نہ مانے مگر جب پاکستان نے حملہ کیا تو ساری دنیا نے دیکھا اور اس ایکشن کی گونج بھی عالمی سطح پر سنائی دی۔ 27 فروری 2019 کو صبح نو بجے پاکستان کے مختلف ایئر بیس سے اٹھارہ جنگی جہازوں نے اڑان بھری۔ تمام جہاز میزائلوں اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس تھے۔ ان جہازوں میں میراج، جے ایف 17 تھنڈر، اور ایف 16 شامل تھے۔ بھارتی ٹارگٹ چن لیے گئے تھے اور پاکستانی پائلٹس کو بھی علم تھا کہ صرف ہندوستان کو بتانا ہے کہ ہم کیا کر سکتے ہیں۔ راجوڑی بریگیڈ ہیڈ کوارٹر کو ٹارگٹ کے طور پر چنا گیا تھا۔ پائلٹ کو بتایا گیا تھا کہ راجوڑی گیریژن میں ہیڈ کوارٹر کو لاک کرنا ہے مگر بم کھلے علاقے میں گرانے ہیں۔ ساتھ ساتھ یہ بھی بتانا تھا کہ پاکستان جنگ نہیں چاہتا مگر جنگ لڑنا اچھی طرح جانتا ہے۔ اگر جنگ مسلط کی گئی تو گھس کر ماریں گے۔

بھارت میں بریگیڈ کوارٹر سے لے کر اسلحہ ڈپو تک 4 ٹارگٹس سلیکٹ کیے گئے۔ جب بریگیڈ ہیڈ کوارٹر نشانے پر تھا تو اس میں ٹاپ انڈین ملٹری لیڈرشپ بھی بیٹھی تھی اور انھوں نے دھماکوں کی آواز سنی بھی جو ان کے لیے ایک بہت بڑا سرپرائز تھا۔ بھارتی طیاروں کی طرح پاکستانی شاہین بم گرا کر بھاگے نہیں اور نہ ہی بھارتی سرحد کو کراس کیا۔ ٹارگٹ مارک کرنے کے بعد پاکستانی پائلٹس نے 2600 پاؤنڈز وزنی ایچ آر میزائل اور بمز کو راجوڑی گریژن سے دور نیویگیٹ کر کے گرا دیا۔ پاکستانی ایئر فورس کی جانب سے تمام 6 ٹارگٹس کے ساتھ ایسا ہی کیا گیا۔ 

پاکستانی ایئر فورس کو اپنی پلاننگ پر اتنا بھروسہ تھا کہ ٹارگٹ لاک کریں گے، میزائل کو گائیڈ کریں گے، بھارتی ریڈار ڈار کو چکمہ دیں گے اور جانی نقصان بھی نہیں ہونے دیں گے۔ ساتھ ہی ساتھ اگر بھارتی فضائیہ حملہ کیا تو اس کا بھی مقابلہ کریں گے۔ اور پھر ایسا ہی ہوا۔ ہندوستانی فضائیہ نے فوری طور پر اپنے طیاروں کو حملہ کرنے کا حکم دیا۔ یہاں سے شروع ہوا ایک ایسا کھیل جو پاک فضائیہ نہیں بلکہ ہندوستانی ایئر فورس کے ساتھ کھیلا گیا۔ میراج طیارے بھارتی اڈوں پر حملہ کرنے کے لیے استعمال کیے گئے تھے مگر ان کے پیچھے JF۔17 سٹرائک فورس کی حفاظت کے لیے موجود تھے۔

  بھارت کی جانب سے 2 طیارے فضا میں اُسی سیکٹر میں موجود تھے ان میں سے ایک ایس۔ یو تھرٹی ایسی پوزیشن میں آ رہا تھا کہ وہ پاکستانی طیاروں کے لیے خطرہ بن سکتا تھا۔ یہ طیارہ سکوارڈن لیڈر حسن کے جے ایف 17 کا شکار ہوا اور وہ بھارتی حدود میں جا گرا۔ جبکہ دوسرا وہاں سے فرار ہو گیا۔ بھارت کی جانب سے ایک ایم۔ آئ سیون ٹین ہیلی کاپٹر بھی اڑایا گیا تھا کہ وہ چیک کرے کہ ان کے ایس۔ یو تھرٹی کے ساتھ کیا ہوا ہے؟ اس ہیلی کاپٹر کو بدحواس بھارتی فوج نے پاکستانی حملہ آور سمجھ کر خود گرا دیا۔ اس ہیلی کاپٹر میں سوار بھارتی فوج کے چھ افراد ہلاک ہوئے تھے اور بھارت نے خود بھی اس کا اعتراف کر لیا تھا۔

اتنی دیر میں بھارت نے سرینگر ایئرپورٹ سے Mig.21 اڑائے تاکہ وہ جا کر پاکستانی جہازوں سے ٹکر لے سکیں۔ ان میں سے ایک طیارہ ونگ کمانڈر ابھی نندن کا تھا۔ پاکستان ایئر فورس کے فضا میں موجود الیکٹرونک وارفیئر جہاز ابھی نندن کے طیارے کے کمیونیکیشن سسٹم کو جیم کر چکے تھے جس سے اس کا کنٹرول روم سے رابطہ ختم ہوگیا اور وہ Loc کراس کر گیا. وہاں جے ایف 17 پہلے سے ہی موجود تھے۔ ونگ کمانڈر نعمان نے ذرا سا لمحہ ضائع کئے بغیر ابھینندن کے جہاز کو ٹارگٹ کیا ۔اسے مار گرایا۔ کشمیر کے لوگوں نے اپنے موبائل کے کیمروں سے یہ منظر عکس بند کیا۔ ابھی نندن نے طیارے سے ایجیکٹ کیا تو کشمیر کے لوگوں نے اس کے پیراشوٹ کو دیکھتے ہوئے پیچھا کیا۔ جب ابھی نندن زمین پر گرا تو لاتوں اور مکوں سے اس کی خاطر تواضع کی گئی۔ 

ہندوستان نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اس کا انجام ایسا ہوگا۔ آرمی چیف اور فضائیہ چیف کا آپس رابطہ ہو چکا تھا۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پائلٹ کو ریسکیو کیا جائے۔ جسے جنیوا کنونشن کے تحت جنگی قیدی کی حیثیت سے رکھا جائے گا۔ اس لیے پاک فوج کے جوان وہاں پر پہنچے اور ابھی نندن کی جان بچائی۔ چند ہی لمحوں بعد دنیا بھر ک اخباروں میں یہ سرخی بنی کہ پاکستان نے ہندوستان کے طیارے مار گرائے اور پائلٹ کو گرفتار کرلیا ہے۔ 

تو ناظرین یہ تھی اس تمام واقعے کی تفصیل جس کی وجہ سے 27 فروری 2019 کا دن بھارت کبھی نہیں بھول سکے گا۔ اس دن پاکستانی پائلٹس نے پوری دنیا میں انہوں نے پاکستان کا نام روشن کیا اور قوم کا سر فخر سے بلند کردیا۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>