ایف بی آر کا زیورات اور پراپرٹی کی خرید و فروخت کی مانیٹرنگ کا فیصلہ

انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی مدد کی روک تھام کے لئے پراپرٹی اور جیولری کی خرید و فروخت کی مانیٹرنگ کا فیصلہ یہ قدم ایف اے ٹی ایف کی شرائط پر عملدرآمد کے حوالے سے اٹھایا جائے گا

تفصیلات کے مطابق ایف بی آر پاکستان میں منی لانڈرنگ کی روک تھام اور دہشت گردی کے لیے مالی مدد کی روک تھام (سی ٹی ایف) کے حوالے سے ایف اے ٹی ایف کی تجاویز پر عملدرآمد کے لیے آئندہ چند روز میں 3 شعبوں میں قواعد نافذ کرے گا۔

نجی اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ قواعد ریئل اسٹیٹ، جواہرات اور زیورات کے شعبوں کا احاطہ کریں گے تاکہ دہشت گردی کے لیے مالی مدد کو یہاں ٹھکانے کرنے کا امکان کم سے کم کیا جاسکے۔

اس ضمن میں لا ڈویژن اور ایس ای سی پی کے ذریعے وکلا اور چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس کی نگرانی کی جائے گی۔

ایف بی آر کے تیار کردہ قواعد کے مطابق زیورات کو دستاویزی شکل دی جائے گی اور منقل کی گئی رقم کا حساب رکھا جائے گا جبکہ قواعد کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد ایک مکمل نظام قائم کیا جائے گا جس کے ذریعے ہی معلومات ایف بی آر کو فراہم کی جائے گی۔

قانون کے تحت زیورات کے تاجر ایک مخصوص حد سے زائد لین دیں کو رپورٹ کر سکیں گے۔علاوہ ازیں زیورات کے تاجر ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ ایک خاص ریٹرن فارم بھی جمع کروائیں گے جس میں ملک بھر کے 30 ہزار زیورات کے تاجروں کا ڈیٹا ہوگا۔

مجوزہ قواعد کا ہاؤسنگ اتھارٹیز یا سب رجسٹرار آفسز پر بھی اطلاق ہوگا جہاں جائیداد کے تبادلے کی تصدیق کی جاتی ہے تاہم پراپرٹی ایجنسٹس ان قواعد کے دائرہ کار میں نہیں آئیں گے۔


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept

>