پاکستان کا گرے لسٹ میں رہنا بینکوں کیلئے برا شگون ہے:عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز

پاکستان کا ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں رہنے کی سبب عالمی ریٹنگز ایجنسی موڈیز نے پاکستانی بینکوں کیلئے حالات منفی قرار دے دیے۔


تفصیلات کے مطابق حالیہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کے فیصلے کے بعد عالمی ریٹنگز ایجنسی موڈیز نے پاکستان سے متعلق رپورٹ جاری کی ہے۔ جس میں ایجنسی کا کہنا ہے کہ پاکستان کا گرے لسٹ میں برقرار رہنا پاکستان کے بینکوں کے لیے منفی ہے۔

ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کےخلاف موثر اقدامات کرنے کیلئے جون 2020 تک کا مزید وقت دیاہے۔ ایکشن پلان پر عمل درآمد مکمل کرنے کے لیے پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی دی گئی ڈیڈ لائن سے پہلے اقدامات اٹھاتے ہوئے عملدرآمد کرنا ہو گا۔

جاری رپورٹ میں عالمی ریٹنگز ایجنسی کا کہنا ہے کہ پاکستان کی کارکردگی میں گزشتہ سالوں کی نسبت قدرے بہتری دیکھنے میں آئی ہے، اور پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کی جانب سے دئیے گئے ٹاسک ستائیس میں سے چودہ پر عمل درآمد کیا ہے۔ تاہم پاکستان کے سٹیٹ بینک کے حکام کو یقین ہے کہ جون 2020 تک پاکستان گرے لسٹ سے نکل وائٹ لسٹ میں آ جائے گا۔

خیال رہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو جون 2020 تک گرے لسٹ میں رکھا ہے اور پاکستان پر زور دیا ہے کہ نا مکمل رہ جانے والے امور پر مزید کام کرتے ہوئے ایکشن پلان پر عملدرآمد یقینی بنائے تاکہ جون 2020 میں ہونے والے اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے یا بلیک لسٹ میں ڈالنے کے حوالے سے فیصلہ کیا جا سکے۔

یاد رہے کہ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان کو گرے لسٹ میں جون 2018 میں شامل کیا گیا تھا۔


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept

>