پاکستان کو 2ارب ڈالرموصول، 40فیصد قرض ادائیگیوں میں چلاگیا

پاکستان کو عالمی اداروں کی جانب سے دو ارب ڈالر موصول ہوگئے ہیں، یہ رقم چھبیس جون دوہزار بیس کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران موصول ہوئی ہے، جن میں سے چالیس فیصد یعنی آٹھ سو نو ملین ڈالر غیرملکی قرضوں کی ادائیگی میں دے دیئے گئے ہیں۔

اسٹیٹ بینک سے جاری اعداد و شمار کے مطابق ادائیگیوں کے بعد پاکستان کے زر مبادلہ ذخائر میں 1.2 ارب ڈالر کا اضافہ ہوگیا،ملکی زرمبادلہ ذخائر اپریل 2020ء کے بعد پہلی بار 11.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔

گزشتہ ہفتے ملکی زر مبادلہ ذخائر سات ماہ کی کم ترین سطح پر تھے۔ زرمبادلہ ذخائر میں اضافے کی وجہ سے پاکستان میں ڈالر کی آمد ہے، جس میں ورلڈ بینک سے 725 ملین، ایشین ڈیولپمنٹ بینک سے 500 ملین جبکہ ایشین انفرااسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک سے ملنے والے 500 ملین ڈالر شامل ہیں۔

اسٹیٹ بینک زرمبادلہ ذخائر کا ڈیٹا ایک ہفتہ کی تاخیر سے جاری کرتا ہے، چائنیز بینک کی جانب سے پاکستان کومزید 1.3 ارب ڈالر موصول ہوچکے ہیں، اور اب آئندہ ہفتے جاری ہونیوالے زرمبادلہ ذخائر میں مزید اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔

رواں سال زرمبادلہ ذخائر 2018 کے مقابلے میں کم ترین سطح سے دوگنے ہوچکے ہیں۔ڈالر اکاؤنٹ گزشتہ سال اکتوبر میں سرپلس میں چلا گیا تھا۔

موجودہ حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ 6 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکیج پر دستخط کئے، ورلڈ بینک، ایشین ڈیولپمنٹ بینک اور ایشین انویسٹیمنٹ بینک نے بھی تعاون کا وعدہ کیا۔

آئی ایم ایف کے مطابق اس پروگرام کے دوران منصوبے کے تحت مختلف اداروں سے 38 ارب ڈالر کی فنڈنگ کیلئے راہ ہموار کرنا تھا۔

آئی ایم ایف کے پاس جانے سے معاشی شرح نمو روکنے کے اقدامات کئے گئے۔ درآمدات کم کی، روپے کی قدر میں کمی اور سود کی شرح میں اضافہ ہوا، جس سے قرض لینا مہنگا ہوگیا۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >