معیشت کے ساتھ کھلواڑ، 1127 ارب کی ٹیکس چوری پکڑی گئی

ایف بی آر عملے کی ملی بھگت سے 2015سے2019 تک 1127 ارب روپے کی ٹیکس چوری کا انکشاف۔۔ایف بی آر کا عملہ اور بڑے افسران بھی چوری میں ملوث

فیڈرل بورڈ آف ریونیو ڈائریکٹوریٹ کی جنرل انٹرنل آڈٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں 2015 سے 2019 کے دوران 1127 ارب سے زائد کی ٹیکس چوری کی گئی ہے، ایف بی آر کی جانب سے 1258 ارب روپے کی بجائے 131 ارب 91 کروڑ ٹیکس وصول کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں انکشاف سامنے آیا ہے کہ 5 سال کے دوران 4193 ارب روپے سے زائد کا کاروبار ہوا ہے جبکہ ہزاروں کاروبار جعلسازی سے منافع نقصان میں بدلتے ہیں۔ 2017 میں سب سے زیادہ ٹیکس چوری ہوا۔

ڈائریکٹوریٹ کی جنرل انٹرنل آڈٹ کی رپورٹ کے مطابق ایف بی آر عملے کی ملی بھگت سے ٹیکس چوری کی گئی جبکہ کراچی ، لاہور اور اسلام آباد کے ساتھ ساتھ پشاور اور سکھر میں بھی ٹیکس چوری کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں سکینڈل میں ملوث ودہولڈنگ ایجنٹس کیخلاف کارروائی کی سفارش کرتے ہوئے ذمہ داروں پر ڈیفالٹ، سرچارج، پینلٹی لگانے اور ریکوری کی سفارش کی گئی ہے اور آئی ٹی ونگ کو فراڈ کی روک تھام کیلئے سسٹم بہتر کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔

اس سارے معاملے میں ایف بی آر کے اپنے ملازموں کے ملوث ہونے کے بھی ثبوت ملے ہیں جس پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے اپنے ذیلی ادارے پرال سے فراڈ اور جعلسازی پر وضاحت طلب کر لی ہے، علاوہ ازیں ایف بی آر نے ذمہ داروں کا تعین کر کے ملوث ملازمین اور ان کے سپروائزر کے خلاف سخت ترین کارروائی کی سفارش کی ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >