قرض کی ادائیگی کیلئے پاکستان کو مزید 6 ماہ کی مہلت مل گئی

عالمی بینک اور آئی ایم ایف کا اہم اجلاس ہوا جس میں پاکستان کو قرضوں کی ادائیگی میں 6 ماہ کی مزید مہلت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، پاکستان کو قرضوں کی ادائیگی کی مد میں اس سے قبل ایک سال کا ریلیف دیا گیا تھا۔ قرضوں میں ایک سال کا ریلیف رواں سال دسمبر میں ختم ہورہا تھا، 6 ماہ کے مزید ریلیف سے پاکستان کو ایک ارب ڈالرز کا فائدہ ہو گا۔

اس سے قبل معاشی ماہرین کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف پروگرام کی منظوری سے عالمی بینک اورایشیائی ترقیاتی بینک سے بھی مالی معاونت کی راہ ہموار اور بیرونی قرضوں کی ادائیگی آسان ہوگی۔

ادھر کورونا ویکسین کی مد میں آئی ایم ایف، ورلڈ بینک نے ترقی پذیر ممالک کے لیے فنڈز کا اعلان بھی کیا۔ ویکسین کے لیے ترقی پذیر ممالک کے لیے 12 ارب ڈالرز مختص کیے جارہے ہیں، کورونا ویکسین کے لیے پاکستان کو 400 ملین ڈالرز فراہم کیے جائیں گے۔

یاد رہے آئی ایم ایف نےایمنسٹی اسکیم پراعتراض کیا تھا اور اسکیم میں مزید توسیع کی بھی مخالفت کی تھی، آئی ایم ایف کی ترجمان ٹریسا ڈبن ساشیز کا کہنا ہے کہ توسیع سے پاکستان کے کیس پر اثر پڑے گا۔

اس حوالے سے ماہر معاشیات خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ روپے پر دباؤ کم ہوگا اور قدر میں استحکام آئےگا، پاکستان نے پیشگی شرائط پوری کردی ہیں، جن میں روپےکی قدر کا تعین، گیس وبجلی کی قیمتیں، ٹیکس اصلاحات اورٹیکس چھوٹ کا خاتمہ اورشرح سود میں اضافہ شامل ہے۔

اخراجات میں کمی اور آمدنی بڑھانے پراقدامات کی طرف بھی پاکستان نے پیش رفت کی، ٹیکس رعایتیں ختم کرنے ٹیکس اصلاحات کےلیےاہم اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں جبکہ ایگزیکٹو بورڈ اجلاس سےقبل اثاثہ ظاہر کرنے والی اسکیم کی مدت بھی ختم ہو جائے۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>