لاک ڈاؤن کے دوران بڑھتے ہوئے آن لائن بزنس میں نمایاں کمی

لاک ڈاؤن کے دوران بڑھتے ہوئے آن لائن بزنس میں نمایاں کمی

ملک میں کورونا بحران کے باعث لگنے والے لاک ڈاؤن میں بڑھنے والے آن لائن بزنس میں نمایاں کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق لاک ڈاؤن کے دوران پاکستان میں آن لائن خریداری اور ہوم ڈیلیوری کے بزنس میں 60 فیصد اضافہ ہوا تھا، جبکہ اس عرصے میں موبائل بینکنگ استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد 50 لاکھ اور انٹرنیٹ بینکنگ سے مستفید ہونے والے صارفین کی تعداد 30 لاکھ تک جا پہنچی ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ریئل ٹائم آن لائن برانچز کے ذریعے سب سے زیادہ ادائیگیاں کی گئیں، 14 ہزار800 ارب کے لین دین میں 84 فیصد ادائیگیاں آن لائن کی گئیں ہیں۔

اسی طرح جولائی تک لگائے جانے والے لاک ڈاؤن میں آن لائن سبزیاں اور پھلوں کی خریداری میں 9 گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

تاہم ملک میں لاک ڈاؤن کے خاتمے، مارکیٹوں، بازاروں اور سفری پابندیوں کے ختم ہوتے ہی آن لائن خریداری میں نمایاں کمی دیکھی جارہی ہے۔

صارفین کی جانب سے آن لائن کھانے پینے کی اشیاء، اور دیگر اشیاء کی خریداری کے بجائے بازاروں کا رخ کرنے کو ترجیح دی جارہی ہے، مشہور آن لائن شاپنگ پلیٹ فارم دراز ڈاٹ کام کے مطابق لاک ڈاؤن کھلنے کے بعد آن لائن کاروبار میں شدید کمی واقع ہوئی ہے۔

پاکستان میں ابھی آن لائن خریداری کا رجحان ابھی اتنا فروغ نہیں پاسکا ہے، مگر لاک ڈاؤن کے دوران اس میں حوصلہ افزا اضافہ دیکھا گیا تھا، پاکستان میں آن لائن خریداری کرنے والے صارفین میں سے 55 فیصد صارفین کا تعلق پنجاب،36 فیصد کا تعلق سندھ، 5 فیصد خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے صارفین ہیں۔

جبکہ بلوچستان اور آزاد کشمیر میں سے صرف 2، 2 فیصد آن لائن خریداری کے صارفین موجود ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آن لائن خریداری کے دوران فراڈ اور جعلی مصنوعات کی وجہ سے پاکستان میں آن لائن خریداری کو فروغ نہیں مل پارہا۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >