اسٹیٹ بینک کا شرح سود 7فیصد برقرار رکھنے کا فیصلہ خوش آئند ہے،بزنس کمیونٹی

اسٹیٹ بینک کا شرح سود 7فیصد برقرار رکھنے کا فیصلہ خوش آئند ہے،بزنس کمیونٹی

اسٹیٹ بینک کا شرح سود7 فیصد پر برقراررکھنے کا فیصلہ حوصلہ افزا ہے۔

نجی ٹی وی کے میزبان کامران خان نے اپنے پروگرام میں اسٹیٹ بینک کے اس اہم اعلان پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پہلی بار اسٹیٹ بینک نے آئندہ کے حوالے سے واضح اعلان کیا ہے کہ مستقبل قریب میں بھی شرح سود میں اضافے کا امکان نہیں،معیشت ترقی کی شاہراہ پرگامزن ہے،جو کہ تجارت، کاروبار اور سرمایہ کاروں کیلئے ایک بڑا اور مثبت اعلان ہے۔

چیئرمین اے کے ڈی گروپ عقیل کریم ڈھیڈی نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کا یہ فیصلہ کاروباری حضرات کیلئے بہت ضروری تھا،بزنس سیکشن کے لئے بیت بڑی خبر ہے،کاروباری حضرات اس فیصلے کو خوش آمدید کہیں گے،سی ای او ٹاپ لائن سیکیورٹیز محمد سہیل نے کہا کہ اس فیصلے سے بزنس کمیونٹی میں جو تشویش ہے وہ ختم ہوجائے گی۔

میزبان کامران خان نے اس حوالے سے نامور سینیئر ماہر معاشیات اور پروفیسر معاشیات لمز ڈاکٹراعجاز نبی سے گفتگو کی اور اس اہم فیصلے کے حوالے سے بات کی، اعجاز نبی نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے دنیا بھر میں مہنگائی بڑھی اور جب مہنگائی نہیں بڑھے گی تو شرح سود بھی نہیں بڑھے گی،اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ یہ اچھا اعلان ہے۔

اعجاز نبی نے اپنی گفتگو کے دوران حکومت کو حساس پہلوؤں پر نظر رکھنے کی نشاندہی بھی کی، کہا کسی بھی حکومت کیلئے تیسرا سال بہت اہم ہوتا ہے کیونکہ تیسرے سال میں آئی ایم ایف آپ کی اتنی مدد کردیتا ہے کہ آپ ایکسچینج ریٹ پر قابوپالیتے ہیں کسی حد تک مہنگائی پر بھی قابو پالیتے ہیں،گروتھ شروع ہوجاتی نتائج آنا شروع ہوجاتے ہیں۔

لیکن اس کے بعد دوسالوں میں خصوصاً موجودہ حکومت کو کیونکہ وزیراعظم واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ یہ آئی ایم ایف کا آخری پروگرام ہوگا، تو موجودہ حکومت کو رواں مالی سال پر کنٹرول رکھنا ہوگا،یعنی آمدنی کم اور اخراجات زیادہ ہوئے تو خسارہ ہوگا اسلئے سبسیڈیز پالیسی کو بہتر کرنا ہوگا۔

اسٹیٹ بینک نے شرح سود 7 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے،گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے کہا کہ مستقبل قریب میں شرح سود اسی سطح پر برقرار رہ سکتی ہے،جیسے ہماری معاشی حالت بہتر ہوتی ہے اور معاشی ریکوری مضبوط ہوتی ہے تو اس وقت شرح سود میں تبدیلی کی ضرورت آئی تو وہ یک دم نہیں ہوگی بلکہ تبدیلی آئی تو بتدریج آئے گی۔

معاشی حالت جون 2019 کے مقابلے میں بہت بہتر ہے، مہنگائی کی شرح 7 سے 9 فیصد رہنے کا امکان ہے ، بجلی کے نرخ بڑھنے پر مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس مہنگائی میں بجلی یا بین الاقوامی تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو تو یہ عارضی ہے اور غذائی اشیا کی مہنگائی بھی عارضی تھی اس لیے کمیٹی کا خیال تھا کہ ان کی وجہ سے شرح سود میں تبدیلی کی ضرورت نہیں،مانیٹری پالیسی کمیٹی کا خیال تھا کہ طلب میں دباؤ نہیں کیونکہ ہماری صلاحیت مکمل طور پر زیر استعمال نہیں اور مہنگائی کی پیش گوئی میں توازن ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >