وزارت فوڈ سیکیورٹی نے بھارت سے کپاس درآمد کرنےکی مخالفت کر دی

وزارت تجارت کی بھارت سے کپاس درآمد کرنے کی تیاری،وزارت فوڈ سیکیورٹی کی مخالفت

وزارت تجارت نے بھارت سے کپاس درآمد کرنے کی تیاری کی تو وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی نے مخالفت کر دی۔

پاکستان بھر میں کپاس کی پیداوار میں تاریخی کمی اور سستی پڑنے کے باعث وزارت تجارت نے بھارت سے کپاس اور یارن درآمد کرنے کی سمری تیار کرلی جس کی مخالفت کرتے ہوئے وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی نے بھارت سے کپاس کی درآمد کو کسانوں کے مفادات کے خلاف قرار دے دیا۔

وزارت تجارت کا کہنا ہے کہ بھارت سے کپاس اور یارن درآمد کرنے کی تجویز پر وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی کی مخالفت سے دھچکا لگا ہے۔

دوسری جانب وزرات نیشنل فوڈ سیکیورٹی نے وزارت تجارت کی جانب سے بھارت سے کپاس اور یارن درآمد کرنے کی تیار کردہ سمری کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اپنے کسانوں کے ساتھ ظلم کرنے کے مترادف ہے اور یہ ان کے مفادات کے خلاف ہے۔

اس حوالے سے ماہرین کا خیال ہے کہ بھارت میں سبسڈی کے باعث کپاس کی پیداواری لاگت کم ہے اور کپاس کی درآمد ملک میں کپاس کی پیداوار مزید متاثر کرسکتی ہے، بھارت سے سستی کپاس کی درآمد سے ملک میں کپاس کی پیداوار متاثر ہوگی۔

اس صورتحال پر وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی نے بھارت سے کپاس کی درآمد 10 لاکھ گانٹھوں تک محدود کرنے کی تجویز دی ہے، وزارت تجارت کی جانب سے بھارت سے کپاس اور یارن درآمد کرنے کی تجویز کی اقتصادی رابطہ کمیٹی سے منظوری لی جائے گی۔

دراصل پاکستان میں کپاس کی سالانہ کھپت ایک کروڑ 20 لاکھ سے ڈیڑھ کروڑ گانٹھیں ہیں رواں سال ٹڈی دل و دیگر خرابیوں کے باعث پاکستان کو کمی پورا کرنے کیلئے کپاس درآمد کرنا پڑے گی جس کے لیے پاکستان امریکا، بھارت اور افغانستان سمیت دیگر ممالک سے کپاس درآمد کر سکتا ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >