2025 تک کونسے44ریاستی اداروں کی نجکاری ہوگی؟

2025 تک کونسے44ریاستی اداروں کی نجکاری ہوگی؟

2025 تک 44 ریاستی اداروں کی نجکاری کی جائے گی،آئی ایم ایف کے تحت نقصان میں چلنے والے ملکی اداروں کی جائزہ رپورٹ میں انکشاف سامنے آگیا۔

آئی ایم ایف کے وضع کردہ ساختیاتی ڈھانچے کے جزو کے طور پر84ریاستی ملکیتی اداروں کی جائزہ رپورٹ مکمل کرلی گئی، جسے گذشتہ روز وزارت خزانہ نے جاری کیا ہے۔ ساختیاتی ادارے کو ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی حمایت بھی حاصل ہے۔

رپورٹ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکومت 39 ادارے برقرار رکھے گی، جبکہ پاور سیکٹرسمیت 44 اداروں کی نجکاری کردی جائے گی،حکومت اپنے پہلے سال میں پاور سیکٹر کے نقصانات میں 50 فیصد کمی کا دعویٰ بھی کرچکی ہے۔

پہلی بار حکومت نے برقرار رکھے جانے والے اور فروخت کیے جانے والے اداروں کی ری اسٹرکچرنگ کے لیے ٹائم لائن کا بھی تعین کردیا، جس کے تحت بہت زیادہ خسارے میں نہ چلنے والے ادارے جون 2023 ء تک فروخت کیے جاسکتے ہیں،جو ملک میں نئے انتخابات کی تیاریوں کا وقت بھی ہوسکتا ہے۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری 4سال کے عرصے میں مکمل ہوگی۔

رپورٹ کے مطابق کابینہ کمیٹی برائے ریاستی ملکیتی کاروباری ادارہ جات وزارت خزانہ میں قائم ہورہے ہیں، ایک سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ کی وساطت سے ٹائم لائن کے لحاظ سے نجکاری عمل کی پیشرفت کا جائزہ لیتی رہے گی،وفاقی حکومت کے ماتحت 212 ریاستی ملکیتی ادارے اور ان کے ذیلی ادارے ہیں، تاہم جائزہ رپورٹ میں صرف 85 تجارتی اداروں کو شامل کیا گیا جو 7شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

2018-19 میں تمام ریاستی ملکیتی اداروں کی آمدنی 4 ٹریلین روپے تھی،ان کے اثاثوں کی مالیت 19 ٹریلین روپے تھی،یہ ادارے ساڑھے چار لاکھ سے زائد افراد کو روزگار بھی فراہم کررہے ہیں ،مجموعی افرادی قوت کا 0.8 فیصد ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2018-19 میں ان تجارتی اداروں کو مجموعی طور پر 143 بلین روپے کا خسارہ ہوا،مسلم لیگ ن کی حکومت کے آخری سال کے مقابلے میں خسارے میں 50 فیصد کمی دیکھنے میں آئی،دوسری جانب سرکاری اداروں کی نجکاری کی فہرست سے پی ٹی وی کا نام نکال دیا گیاتھا۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >