چینی پر سٹہ کیسے کھیلاجاتا ہے؟ کیسے سٹہ باز عوام کا خون چوستے ہیں؟

چینی کی قیمتوں پر سٹہ سائیکل کیسے چلتی ہے؟ کیسے سٹہ کی مدد سے چینی مہنگی کرکے عوام کا خون چوسا جاتا ہے؟

ملک بھر میں چینی کا بحران اور چینی مافیا عروج پر ہے،جب چاہے چینی کی قیمتوں میں من مانا اضافہ کیا اور عوام کا خون چوس لیا، لیکن کیا آپ جانتے ہیں، چینی کی قیمتوں میں اچانک ہونے والے اتار چڑھاؤ کے پیچھے چھپی ہے سٹہ مافیا،اب آپ سوچ رہے ہونگے کہ ہمیشہ کرکٹ میں سٹے بازی کا سنا ہے لیکن یہ یہاں تو چینی کی قیمتوں کیلئے بھی سٹے بازی جاری ہے، جی ہاں آج ہم آپ کو بتائیں گے چینی پرسٹے بازی کی کہانی۔

سٹے بازی کر کے 70 روپے فی کلو چینی کو 90 روپے میں فروخت کیا جارہاہے کبھی یہ چینی 90 روپے، کبھی 95 روپے، کبھی 100 روپے، کبھی 110 اور کبھی 115 میں فروخت کی جاتی ہے۔ چینی کی فی کلو ایک روپے چینی بڑھنے سے اربوں روپے کا منافع ان سٹہ بازوں کی جیب میں جاتا ہے۔

ہوتا کچھ یوں ہے کہ شوگر ملز میں ہزاروں ٹن چینی موجود ہوتی ہے،طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ مالک اپنی چینی ڈیلرز، ہول سیلرز اور پھر ریٹیلرز کو پہنچائیں، لیکن یہاں بیچ میں آجاتے ہیں کان بھرنے والے وہ افراد جو شوگرملز مالکان کوسٹے بازی کیلئے اکساتے ہیں،یعنی اگر ستر روپے فی کلو قیمت مقرر کی گئی ہے تو سٹے باز کہتے ہیں آپ ستر نہیں بلکہ نوے روپے فی کلو کی قیمت پر ڈیلرز دیتا ہوں، مالک بھی اضافی پیسے کا سن کر ڈیل فائنل کرلیتا ہے، یوں سٹے بازی کا باقاعدہ آغاز ہوجاتا ہے۔

سٹے باز سوشل میڈیا کے ذریعے سٹے بازی کی سائیکل چلاتا ہے، واٹس ایپ گروپ پر میسیج کرتا ہے،کہ اس وقت چینی کا ریٹ نوہزار روپے فی بوری ہے، میرے پاس آئندہ مہینے کیلئے ایک ہزار بوریاں دستیاب ہیں،سو کلو والی بوری ساڑھے نوہزار روپے کی بیچی جائے گی،جو دلچسپی رکھتا ہے وہ ڈیل ڈن ہونے کا میسیج کردے، پیغام ملتے ہی منٹوں میں بکنگ طے پاجاتی ہے۔

سٹے بازی کا یہ کھیل یہیں ختم نہیں ہوتا، بکنگ کروانے والے افراد بھی مزید منافع خوری کی تیاری کرتے ہیں، اور میسیج پر پوچھتے ہیں کسی کو نوہزار چھ سو روپے کی سو کلو والی بوری چاہئے؟ تو بوریوں کی تعداد کے ساتھ ڈیل فائنل کرے،اس میسیج پر دوبارہ سٹے بازوں کیلئے چینی بک ہوتی ہے،اب یعنی فی بوری پرسو روپے اضافی قیمت کے ساتھ منافع کمایا اب سٹے بازوں پر منحصر ہے کہ وہ بازار میں فروخت کردیں یا مزید سٹہ کھیلیں۔

اس سٹے بازی میں جو بوری سات ہزار روپے کی تھی وہ ڈھائی ہزار اضافی قمیت کے ساتھ نو ہزار چھ سو روپے میں مارکیٹ میں آتی ہے،ڈیلرز پھر اس پر مزید منافع کماتے ہیں،پھر ہول سیلر اور پھر آخری میں رہی سہی کسر ریٹیلر پوری کردیتے ہیں،اس طرح تمام کاروباری حضرات کے منافع کمانے کے بعد بوری کی قمیت دس ہزار کا ہندسہ بھی عبور کرلیتی ہے۔

اب سب نے اپنا منافع کمالیا، جان خشک ہوتی ہے غریب کی، یعنی جو چینی غریب ستر روپے فی کلو میں خریدتا تو ایک سو دس سے ایک سوچالیس روپے میں خریدنے پر مجبور ہوتا ہے،یہ سارے کام واٹس ایپ، فون کالز اور کاغذی کارروائی پر مبنی ہوتے ہیں،اس طرح مارکیٹ میں آنے سے قبل ہی چینی پر اربوں روپے کا سٹہ لگ جاتا ہے، امیر پیسے سے پیسہ کماتا ہے اورغریب غربت کا کڑوا گھونٹ پی کر صبر کرلیتا ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ سٹہ بازی کہاں ہوتی ہے؟ کہاجاتا ہے کہ لاہور میں اکبری مندی کا بابرپلازہ اسکا گڑھ ہے، یہ لوگ وٹس ایپ پیغامات کے ذریعے بڑی مہارت سے کبھی چینی غائب کردیتے ہیں اور کبھی چینی مارکیٹ میں لے آتے ہیں۔ ایف آئی اے کے مطابق ایک چھوٹا سٹے باز روزانہ سٹے بازی سے لاکھوں روپے کماتا ہے تو پھر اندازہ کرلیجئے کہ بڑے بڑے سٹے باز اور شوگر ملزمالکان کتنا کماتے ہوں گے

  • سٹے باز جو دراصل سول ڈسٹری بیوٹر ہوتا ہے ، وٹس ایپ گروپ میں میسیج بھیجتا ہے کہ اگلے ہفتے چینی کی بوری پانچ سو روپے مہنگی ہورہی ہے جس جس نے بکنگ کرنی ہے کر لے ، سب ڈیلر زیادہ منافع کمانے کیلئے فوراً ایڈوانس پیسے جمع کروا کر بکنگ کروا لیتے ہیں اور اپنے پاس موجود سٹاک کو بھی پانچ سو مہنگا کرلیتے ہیں ، اس طرح جو ریٹ ایک ہفتے بعد مہنگا ہونا ہوتا ہے وہ اسی دن ہوجاتا ہے ، یہ ٹرکل ڈاؤن افیکٹ سے ریٹیلز تک پہنچتے پہنچتے مزید مہنگا ہوجاتا ہے

    جب ریٹ گرتا ہے تو پھر گرتا چلا جاتا ہے کیونکہ پھر کوئی بھی مال اٹھانے کو تیار نہیں ہوتا جب تک کہ مینوفیکچرر مال کی سپلائی روک نہ دے ، اگر مینوفیکچرر مالی طور پر مستحکم ہو جو مہینہ ڈیڑھ مہینہ مفت کی تنخواہ دے سکے اور بینک کی قسطیں ادا کرسکے تو وہ سپلائی روک دیتا ہے ، اس طرح گرتی ہوئی قیمتوں میں استحکام آجاتا ہے

    • کان بھرنے والے کوئی اور نہیں مل مالکان خود ہوتے ہیں یا ان کے مارکیٹنگ اور سیلز کے لوگ ہوتے ہیں ، یہ دراصل ایک کارٹل بنا کر بیٹھے ہوتے ہیں ، کارٹل میں ہر مل نے اپنا اپنا ایریا مقرر کر رکھا ہوتا ہے ، حصہ بقدر جثہ ہوتا ہے ، ایک دن سارے مل مالکان یا ان کے نمائندے فیصلہ کرلیتے ہیں کہ آج سے کوٹہ پچاس فیصد یا چالیس فیصد ہے ، اس دن ہر مل اسی کوٹے کے حساب سے اپنے ڈسٹری بیوٹر کو مال سپلائی کرتی ہے ، اس طرح مارکیٹ میں مال کم سپلائی ہوتا ہے اور ڈسٹری بیوٹر نے شور مچا رکھا ہوتا ہے کہ اگلے ہفتے ریٹ بڑھ جائے گا ، یہ ڈبل افیکٹ کا کام کرتا ہے اور قیمتیں دنوں میں بڑھ جاتی ہیں

  • the government has to destroy this cartel by having buffer stock which they can release to the market to stabilise prices
    free the sugar trade so any body can trade and manufacture sugar and import duty free sugar allowed to traders through out the year which will break the monopoly of the cartels


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >