چینی حکومت نے علی بابا پراربوں ڈالرز کا جرمانہ کیوں عائد کیا؟

چین کی معروف کمپنی علی بابا پراربوں ڈالر کا جرمانہ

دنیا کے سب سے بڑے آن لائن پورٹل علی بابا حکومت کے شکنجے میں آگئے، چینی حکومت نے اینٹی مونو پولی( انسدادِ اجارہ داری) قانون کے تحت دنیا کے سب سے بڑے آن لائن پورٹل علی بابا پراربوں ڈالر کا جرمانہ عائد کر دیا۔

چینی حکومت کی جانب سے عائد کیے گئے 2 ارب75 کروڑ ڈالر جرمانے پر کمپنی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہم اس قانون کو تسلیم کرتے ہوئے اس پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں گے،جرمانے کی رقم علی بابا کی 2019 میں ہونے والی آمدن کا محض 4 فیصد ہے۔

برطانوی رپورٹ کے مطابق چینی ریگرلیٹرز کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ جائنٹ علی بابا گزشتہ کئی سالوں سے مارکیٹ میں اپنے تسلط کا ناجائز فائدہ اٹھا رہا ہے،رواں سال فروری میں چینی حکومت نے انٹرنیٹ کمپنیوں کے لیے انسداد اجارہ داری قانون متعارف کروایا تھا، جس کے تحت انسداد مسابقت طرز عمل کے خلاف کریک ڈائون کی کوششیں کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق چین کی حکومت کا اس قانون سازی کا مقصد چین کے بڑے ای کامرس پلیٹ فارمز علی بابا اور جی ڈی ڈاٹ کام کو مارکیٹ میں ان کی غالب پوزیشن کے غلط استعمال سے روکنا تھا۔

چین میں علی بابا کو ایک بڑااور طاقتور گروپ سمجھا جاتا ہے۔ علی بابا کا مرکزی کام تو ریٹیل ہے،لیکن اس نے اپنے کام کا دائرہ کار ڈیجیٹل ادائیگیوں، کریڈٹ اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ تک پھیلا دیا۔

ریگولیٹرز کا کہنا ہے کہ علی بابا نے کچھ سیلرز کو دوسرے پلیٹ کے استعمال سے روک کر مسابقت کو روکا ہے،گزشتہ ماہ بارہ چینی کمپنیوں پراسی قانون اینٹی مونو پولی کی خلاف ورزی پر جرمانے عائد کیے گئے تھے،سعلی بابا کا کیس چین کا ہائی پروفائل اینٹی مونو پولی کیس ہے۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>