موجودہ حکومت نے اپنے ڈھائی سالہ دور میں کتنا قرض لیا اور کیا واپس کیا ؟

کرونا وائرس کے باوجود غیر ملکی سرمایہ کاری میں ریکارڈ اضافہ

جانیئے موجودہ حکومت نے رواں مالی سال میں کتنا قرض لیا اور کیا واپس کیا ؟

اقتصادی امور ڈويژن کی رپورٹ کے مطابق جولائی تا فروری 3 ارب 11 کروڑ ڈالرز کا بیرونی کمرشل قرض موصول ہوا۔ جس کے بعد جاری مالی سال میں حکومت نے پہلے 8 ماہ میں 7 ارب 20 کروڑ ڈالرز کا بیرونی قرضہ لیا۔

گزشتہ مالی سال کی نسبت 92 کروڑ 60 لاکھ ڈالرز زیادہ فنڈز حاصل ہوئے جبکہ 4 ارب 12 کروڑ ڈالر کا بیرونی قرضہ واپس کیا گیا۔ ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کیلئے بھی 1ارب 35 کروڑ ڈالرزکا قرضہ لیا گیا۔ چین نے پاکستان کو سیف ڈپازٹس کی مد میں 1 ارب ڈالرز فراہم کئے۔

بیرونی ادائیگیوں کے بعد حکومت کو نیٹ قرض کی مد میں 3 ارب ڈالرز ملے۔ رپورٹ کےمطابق 7 ماہ کے دوران حکومت نے 4 ارب 12 کروڑ ڈالرز کا بیرونی قرضہ واپس بھی کیا

دوسری جانب میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے حاصل کردہ بیرونی قرضے 33 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ حکومت نے جولائی 2018 سے لے کر مارچ 2021 تک 32.9 ارب ڈالر کے مجموعی بیرونی قرضے حاصل کیے جن میں یوروبانڈز بھی شامل ہیں۔

76فیصد قرضے (25 ارب ڈالر ) بجٹ اور ادائیگیوں کے توازن کو سہارا دینے کے لیے لیے گئے۔ انسٹیٹیوٹ آف پالیسی ریفارمز نے اپنی رپورٹ میں مالی سال 2019-20 تک غیرملکی قرضوں کے 20 سالہ رجحانات کا تجزیہ کیا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ حکومت نے بیرونی سرکاری قرض میں15ارب ڈالر کا اضافہ کیا، جس کامطلب یہ ہے کہ بقیہ قرضے دوسرے قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہوئے۔

دوسری جانب آئی پی آر کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سب سے بڑا مسئلہ جس کا پاکستانی معیشت کو سامنا ہے وہ غیرملکی قرضوں کی واپسی اور ان پر سود کی ادائیگی ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >