پاکستان میں مہنگائی بین الاقوامی سطح سے کم رہی، وزیرخزانہ کا قومی اسمبلی میں تحریری جواب

وفاقی وزیرخزانہ شوکت ترین نے ملک میں مہنگائی کے حوالے سے قومی اسمبلی میں اپنا تحریری جواب جمع کروادیا ہے جس میں انہوں نے بین الاقومی سطح پر ہونے والی مہنگائی کے اعدودوشمار پیش کیے۔

تحریری جواب میں شوکت ترین کا کہنا تھا کہ عالمی منڈیوں میں کورونا وائرس کے بحران کے دوران طلب و رسد میں پیدا ہونے والے فرق کی وجہ سے مختلف اشیاء کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا جس کی وجہ سے مہنگائی بڑھی۔

انہوں نے بتایا کہ دنیا بھر کے ممالک میں کورونا وائرس کے اس بحران کے دوران مہنگائی بڑھی ہے ، پاکستان میں مہنگائی کی شرح دیگر ملکوں کی نسبت کم رہی ہے۔

شوکت ترین نے اپنے جواب میں اعدودشمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ایران میں مہنگائی کی شرح 49اعشاریہ 5 فیصد، ترکی میں 17اعشاریہ 1 فیصد مہنگائی ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکستان میں 2019-20 کے دوران مہنگائی کی شرح10 اعشاریہ7 فیصد اور جولائی سے اپریل2021 کے دوران 8اعشاریہ6 فیصد رہی۔

وزیر خزانہ نے اپنے تحریری جواب میں مختلف اشیاء کی قیمتوں میں بین الاقوامی اور مقامی سطح پر ہونے والے اضافوں کی تفصیلات بھی  درج کیں اور بتایا کہ بین الاقوامی منڈیوں میں گزشتہ برس گندم کی قیمت میں 27 فیصد  اضافہ ہوا جبکہ پاکستان میں آٹے کی قیمت 28 فیصد بڑھی۔

انہوں نے بتایا کہ عالمی مارکیٹ میں چینی کی قیمت56 فیصد بڑھی جبکہ پاکستان میں صرف 18 فیصد اضافہ ہوا، اسی طرح عالمی منڈیوں میں چائے کی قیمت بھی12 اعشاریہ3 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

شوکت ترین کے مطابق 2021 کے دوران بین الاقومی سطح پر خام تیل و سویابین کی قیمتوں میں 168 فیصد، پام آئل کی قیمت میں ساڑھے 76 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، اس دوران پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 45 فیصد بڑھی ہیں۔

  • اللہ کا خوف کھاؤ لوگوں کے پاس کھانے کو نہیں ہے
    اور یہ لوگ مہنگائ کو بین الاقومی سطح پر لانے کی بات کر رہےہیں عام لوگوں کی انکم کے بارے میں کسی بھی نے نہیں کہا کہ عام عوام کی تنخواہ بین الاقوامی کی سطح کی ہونی چاہیۓ
    عام عوام کی تنخواہ پندرہ سے بیس ہزار روپے مہینہ ہے
    بات کرتے ہیں بین الاقوامی سطح تھوڑی خیال کرنا چاھیۓ


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >