ماہر معاشیات،کاروباری شخصیات پی ٹی آئی کے تیسرے بجٹ کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے تیسرے مالی سال 22-2021 کا وفاقی بجٹ پیش کر دیا ہےجس پر حکومتی معاشی ٹیم اور ماہرین معاشیات کہہ رہے ہیں کہ یہ ایک بہترین اور عوام دوست بجٹ ہے جب کہ دوسری جانب حزب اختلاف نے روایتی انداز سے اس کو مسترد کیا اور کہا یہ عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔

جمعہ 11 جون کو قومی اسمبلی اجلاس میں آئندہ مالی سال کیلئے 84 ارب 87 کروڑ روپے کا وفاقی بجٹ پیش کیا گیا ہے جس میں تنخواہ دار طبقے پر کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد اضافے کا اعلان کیا جبکہ کم از کم تنخواہ کو بڑھا کر 20 ہزار روپے کردیا گیا ہے۔

اس بجٹ میں عوام کو کئی طرح سے مراعات دی گئی ہیں جن میں شہری گھرانے کو پانچ لاکھ روپے تک کا بغیر سود قرض، کاشت کار گھرانے کو ہر فصل کے لیے ڈیڑھ لاکھ روپے بنا سود قرض، غریب گھرانوں کو کم خرچ گھر کے لیے 20 لاکھ روپے کا قرض، کم آمدنی والوں کو اپنے گھر کی تعمیر کے لیے تین لاکھ روپے سبسڈی دی جائے گی۔

مقامی سطح پر تیار ہونے والی 850 سی سی گاڑیوں پر ایف ای ڈی ختم، سیلز ٹیکس کی شرح کم کر کے ساڑھے بارہ فیصد کردی گئی جبکہ ویلیو ایڈیڈ ٹیکس (ڈبلیو اے ٹی) کو بھی ختم کردیا گیا ہے۔ موبائل سروسز پر عائد 12.5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کو کم کر کے 10 فیصد کر دیا گیا۔ آئل فیلڈ سروسز، وئیر ہاوس سروسز، کولیٹرل منیجمنٹ سروسز، سیکیورٹی سروسز، اور ٹور اینڈ ٹریول سروسز پر ودہولڈنگ ٹیکس کو 8 فیصد سے کم کر کے 3 فیصد کر دیا گیا۔

اسٹاک مارکیٹ پر کیپیٹل گین ٹیکس 15 سے کم کر کے 12.5 فیصد کر دیا گیا، غیر سرکاری انسان دوست اداروں بشمول عبدالستار ایدھی فاؤنڈیشن، انڈس اسپتال اینڈ نیٹ ورک، پیشنٹ ایڈ فاونڈیشن وغیرہ کو ٹیکس کے دائرہ کار سے ہٹا دیا گیا۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو وراثت میں ملنے والی جائیداد پر ٹیکس کی چھوٹ، عمومی ٹیکس کو 1.5 سے کم کر کے 1.25 فیصد مقرر کردیا گیا ہے۔

اس بجٹ سے متعلق حکومتی ٹیم کا کہنا ہے کہ اس سے بہتر بجٹ ایسے حالات میں پیش کرنا ناممکن تھا جبکہ دیگر ماہرین معاشیات اور کاروباری شخصیات کا بھی یہی کہنا ہے کہ حکومت نے دستیاب وسائل میں بہترین بجٹ دیا ہے۔ معروف کاروباری گروپ عارف حبیب کے سی ای او شاہد علی حبیب کا کہنا ہے کہ جی ایس ٹی میں کمی سے نہ صرف سرمایہ کاروں کیلئے بہترین ہو گا بلکہ اس سے نئی کمپنیوں کے بھی میدان میں آنے کے امکانات ہیں۔

شاہد علی حبیب نے مزید کہا ہے کہ یہ ایک "کاروبار دوست” بجٹ ہے جس میں درآمدی متبادل اور برآمدات کو فروغ دینے کے حوالے سے سوچا گیا ہے۔ اس سے نہ صرف ٹیکس نیٹ کو بڑھانے اور عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کرنے کیلئے بھی اقدامات سامنے آئے ہیں۔

اس بجٹ سے متعلق ملتان چیمبر آف کامرس کے عہدیداروں نے کہا کہ یہ بجٹ خوش آئند ہے کیونکہ ریگولیٹری ڈیوٹی اور چھوٹی گاڑیوں پر ٹیکس کم کرنے سے ریلیف ملے گا۔ صدر ملتان چیمبر آف کامرس خواجہ صلاح الدین نے کہا کہ حکومت نے اچھا بجٹ پیش کیا امید ہے کہ مہنگائی کنٹرول ہو گی۔

معروف کاروباری شخصیت عقیل کریم ڈھیڈی نے کہا کہ لوگ کہتے تھے کہ آئی ایم ایف کا پریشر ہے مگر یہ بجٹ بہت ہی اچھا تھا جسے دیکھ کر یہ ثابت ہو گیا کہ حکومت نے آئی ایم ایف کا کسی قسم کا پریشر نہیں لیا۔ انہوں نے اسے گروتھ اورینٹڈ بجٹ قرار دیا۔ جس میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا بلکہ لوگوں کو ریلیف دیا گیا ہے۔

بلوچستان کے تاجروں نے بجٹ پر ملا جلا ردعمل دیا کچھ تاجروں نے اسے اچھا بجٹ کہا جبکہ کچھ کا خیال تھا کہ بجٹ میں بلوچستان کے لیے مزید ترقیاتی منصوبوں کو شامل کیا جانا چاہیے تھا۔ تاجروں نے کہا کہ ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی کی گئی ہے جس کے باعث یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ بجٹ گزشتہ 2 سالوں کے بجٹ سے بہتر ہے۔

خیبر پختونخوا کے تاجروں نے اس بجٹ کو متوازن اور ترقی کیلئے موزوں بجٹ قرار دیا۔ چیمبر آف کامرس کے صدر شرباز بلور نے کہا کہ حکومت نے ایسا بجٹ پیش کیا ہے جس سے صنعتکاری اور کاروبار کو فروغ مل سکے اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔ انہوں نے ضم شدہ اضلاع (فاٹا) اور پاٹا سے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے خاتمے کا خیرمقدم کیا۔ صدر سرحد چیمبر آف کامرس نے حکومت کے اس اقدام سے فائدہ ملنے کی امید کا اظہار کیا۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>