اسٹیٹ بینک کی بینکوں کو غیرمعمولی ڈیجیٹل ٹرانزکشن پر فیس وصول کرنے کی اجازت

اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو غیرمعمولی ڈیجیٹل ٹرانزکشن پر کم سے کم فیس وصول کرنے کی اجازت دے دی،بینک پچیس ہزار روپے سے زائد ڈیجیٹل ٹرانزکشن پر دو سو روپے سروسز چارجز وصول کرسکیں گے۔

ایک ہی بینک کے مختلف اکاؤنٹس میں رقوم کی ڈیجیٹل منتقلی بدستور مفت رہے گی،مرکزی بینک نے بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ مجموعی طور پر پچیس ہزار روپے ماہانہ تک ڈیجیٹل فنڈ کی منتقلی پرکوئی معاوضہ نہیں ہوگا،پچیس ہزار روپے سےزائد ڈیجیٹل ٹرانزکشن پر بینک، صارفین سے ٹرانزکشن پر صفر اعشاریہ ایک فیصد یادو سو روپے سروس چارجزوصول کرسکیں گے۔

مرکزی بینک نے کہا کہ نئی ہدایات بینکوں کو اپنے صارفین کو ڈیجیٹل فنڈ کی منتقلی کی سروس مفت فراہم کرنے کے لیے ملک میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دینے کی ترغیب دیتی ہیں،اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو یہ بھی مشورہ دیا کہ ایک ہی بینک کے اندر مختلف کھاتوں کے مابین تمام ڈیجیٹل فنڈ ٹرانسفر بلامعاوضہ ہوگی،

اس سے قبل دوہزار بیس کی پہلی سہ ماہی میں کورونا وبا کے بعد اسٹیٹ بینک نے صارفین کو ریلیف دیتے ہوئے بینکوں کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اپنے تمام صارفین کو مفت انٹربینک فنڈ ٹرانسفرسروس فراہم کریں۔

اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو مزید ہدایت کی کہ وہ اپنے صارفین کو ایس ایم ایس، ایپس اور ای میل کے ذریعہ قابل اطلاق فیس کے ساتھ معاوضہ اور مفت آئی بی ایف ٹی کی رقم کا مناسب طریقہ کار سے آگاہ کریں،مرکزی بینک کے مطابق ہر ڈیجیٹل لین دین کے بعد بینکوں کو اپنے صارفین کو رجسٹرڈ موبائل نمبر پر بلا معاوضہ ایس ایم ایس بھیجنا ہوگا تاکہ انہیں لین دین کی رقم اور ان چارجز کی وصولی کے بارے میں معلومات فراہم کی جا سکے۔

پاکستان کویت انویسٹمنٹ کے چیف ریسرچ سمیع اللہ طارق کا کہنا ہے کہ یقینی طور پر بینک اس فیصلے سے پیسہ کمائیں گے جبکہ اسٹیک ہولڈرز کے لیے یہ قدرے حوصلہ شکنی ہوگی لیکن چیک بک سسٹم میں واپس جانا ممکن نہیں،ڈیجیٹل سروس فراہم کرنے والے ادائیگی یا نقد رقم لینے کے لیے اضافی سہولت فراہم کرتے ہیں اس طرح بینک جانے یا اس کے اوقات کار کی پریشانی سے صارفین آزاد ہوتے ہیں۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>