کراچی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون بھی ٹیکس چوری میں ملوث

کراچی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون بھی ٹیکس چوری میں ملوث

کراچی کے ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں کسٹمز انٹیلی جنس اینڈ انوسٹی گیشن نے تاریخ کی سب سے بڑی ٹیکس چوری پکڑ لی۔ ایکسپورٹ پراسیسنگ زون میں قائم یونٹس نے مِس ڈیکلریشن اور ایکسپورٹ کے لیے درآمد کیے جانے والی اشیا کی مقامی مارکیٹ میں فروخت سے خزانے کو 4 ارب سے زائد نقصان پہنچایا۔

محکمہ کسٹم انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن کی جانب سے ڈائریکٹر جنرل کسٹم انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن کو ملنے والے خط کے ذریعے کراچی ایکسپورٹ پراسیسنگ زون (کے ای پی زیڈ) میں قائم یونٹس کے خلاف تحقیقات سے آگاہ کیا ہے۔ یہاں قائم یونٹس کے درآمد کردہ اَن کلیم کنٹینرز کی جانچ کے دوران ان میں ڈکلیئر کردہ استعمال شدہ کپڑوں کے بجائے پلاسٹک مولڈنگ کمپاؤنڈ پایا گیا۔

کسٹم انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن کی تحقیقات پر انکشاف ہوا کہ کراچی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں قائم یونٹس ری ایکسپورٹ کے نام پر ڈیوٹی فری اشیا درآمد کر کے انہیں مقامی مارکیٹ میں فروخت کر رہے ہیں جس سے خزانے کو ڈیوٹی اور ٹیکسز کی مد میں بھاری نقصان ہو رہا ہے۔ اب تک کی تحقیقات کے مطابق کراچی میں قائم ایکسپورٹ پروسیسنگ یونٹس نے قومی خزانے کو 4 ارب 15 کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا ہے۔

ادارے نے تحقیقات میں مزید پتہ چلایا ہے کہ جولائی 2016 سے مارچ 2021 کے دوران ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں قائم یونٹس کے درآمد کردہ فیبرک، اسٹیل اور المونیم سمیت پرانے کپڑوں کے ریکارڈ کے مطابق زون میں قائم 20یونٹس نے امپورٹ کے مقابلے میں ایک ڈالر کی بھی ایکسپورٹ نہیں کی، ان 20یونٹس نے 8 ہزار57 میٹرک ٹن سامان امپورٹ کیا جس پرڈیوٹی اور ٹیکسز کی مالیت 52 کروڑ 90 لاکھ روپے بنتی ہے جبکہ ایکسپورٹ پروسیسنگ زون کی وجہ سے یہ ڈیوٹی اور ٹیکس ادا نہیں کیے گئے۔

حیرت انگیز طور پر ان میں سے بعض یونٹس فزیکل طور پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں قائم ہی نہیں۔ اسی طرح مزید 34 یونٹس کی نشاندہی ہوئی جنہوں نے کسی ایک شعبہ کا خام مال درآمد کیا لیکن اس شعبہ کے لیے ایکسپورٹ نہیں کی جب کہ بعض نے امپورٹ کے وقت آئرن اور اسٹیل شیٹس ظاہر کیں اور ایکسپورٹ کے وقت استعمال شدہ کپڑے ظاہر کیے، ایسی اشیا کا وزن 13 ہزار 405 ٹن بنتا ہے جس پر 2ارب ڈالر کی ڈیوٹی اور ٹیکسز چوری کیے گئے۔

ایکسپورٹ پراسیسنگ زون میں قائم دیگر 14 یونٹس نے ایکسپورٹ کے لیے بھاری مقدار میں اشیا درآمد کیں تاہم اس سے بہت کم مقدار ایکسپورٹ کی گئی ان یونٹس نے 5 ارب 99 کروڑ روپے کا سامان امپورٹ کیا جبکہ 4 ارب 37 کروڑ روپے کا مال ایکسپورٹ کیا اس طرح قومی خزانے کو ایک ارب 62 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >