ڈالر کی قیمت کو پر لگ گئے، 11 ماہ کی بلندترین سطح پر

کرونا وائرس کے باوجود غیر ملکی سرمایہ کاری میں ریکارڈ اضافہ

ڈالر کی قیمت میں ایک روپے 8 پیسے کا مزید اضافہ ہو گیا جس کے بعد انٹربینک میں ڈالر کی قیمت 166 روپے 28 پیسے پر بند ہوا، ڈالر اس اضافے کے ساتھ سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔

مئی 2021 سے اب تک ڈالر 14 روپے مہنگا ہو چکا ہے۔ماہرین کے مطابق ڈالر کی قیمت میں اس قدر اضافے کی وجہ مالی سال کے پہلے مہینے میں کرنٹ اکاؤنٹ ڈیفیسٹ (جاری کھاتوں کا خسارہ) 773 ملین ڈالرز تھا۔

اوپن مارکیٹ میں 20پیسے کے اضافے سے ڈالر کی قیمت خرید 164.20 روپے سے بڑھ کر 164.40 روپے اور قیمت فروخت 164.60 روپے سے بڑھ کر 164.80 روپے ہو گئی ہے۔

ملک میں آئی ایم ایف سے 2 اعشاریہ 7 بلین ڈالر کی رقم تو آئی ہے مگر وہ جاری خساروں کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ اس طرح لیے جانے والے قرضوں پر ہمیں 3 سے 4 بلین کی قرضوں اور سود کی مد میں اضافی ادائیگیاں کرنا ہوں گی۔

ڈالر کی قدر بڑھنے سے ملک پر عائد واجب الادا قرضوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈالر کی قدر بڑھنے سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا، جس کے باعث درآمدی اشیاء اور خام مال کی قیمت بڑھے گی۔

دوسری جانب اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو100 انڈیکس میں 192 پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی ہے جس کے بعد 100 انڈیکس 47 ہزار 35 کی سطح پر آ گئی ہے۔ اس طرح مجموعی طور پر حصص میں صفر اعشاریہ 4فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

آج 100 انڈیکس زیادہ سے زیادہ 47 ہزار 916 جبکہ کم سے کم 47 ہزار 617 تک گیا۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>