افغانستان پر طالبان کے کنٹرول کے بعد پشاور میں برقعوں کی ڈیمانڈ کیوں بڑھ گئی؟

افغانستان کے دارالحکومت کابل پر 14 اگست کو قبضہ کیے جانے کے بعد سے دنیا بھر کے متعدد ممالک میں کئی قسم کی تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں ان میں سے سب بڑی تبدیلی خود افغانستان میں ہی آئی جہاں شہری اپنے جان بچانے اور محفوظ مقام کی تلاش میں اپنا ملک اور گھربار چھوڑنے پر مجبور ہیں۔

افغانستان چھوڑ کر دوسرے ملکوں کی جانب رخ کرنے والے شہریوں کا زیادہ تر رجحان امریکا، فرانس، برطانیہ سمیت ایسے ممالک کی جانب ہے جہاں طبقات اور شہریوں کو قدرے آزادی حاصل ہے، ان ممالک کی حکومتیں سیکولر ہونے کی دعویدار ہیں مگر حقیقت سے متعلق دعوے اس کے برعکس ہیں۔

افغانستان سے نکلنے والے افغان و دیگر شہریوں کو دارالحکومت کابل کے ایئرپورٹ سے بین الاقوامی فلائٹس بشمول پی آئی اے سے ملک سے نکالا جا رہا ہے اور انہیں اسلام آباد سمیت دیگر محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب اس بڑی تبدیلی کے باعث انتہائی قابل توجہ چیز جو سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ پشاور کی مارکیٹ میں برقعوں اور حجاب کی فروخت میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ تھوک کا کاروبار کرنے والے دکانداروں کا کہنا ہے کہ پاکستان سے برقعے اور حجاب افغانستان برآمد کیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ افغانستان میں طالبان کے کنٹرول کے بعد صورتحال بڑی تیزی سے تبدیل ہوئی جہاں خواتین حجاب کرتے ہوئے نظر آئیں حتیٰ کہ غیر ملکی صحافیوں کو بھی حجاب کر کے رپورٹنگ کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔

امریکی نیوز چینل سی این این کی خاتون رپورٹر کلاریسا وارد ان لوگوں میں سب سے نمایاں رہیں جنہوں نے افغانستان میں طالبان کے قبضے کےبعد حجاب کر کے رپورٹنگ کی انہوں نے اس دوران طالبان جنگجوؤں سے بھی گفتگو کی۔

تاہم افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا ہے کہ خواتین کیلئے پردہ ضروری ہے مگر ضروری نہیں کہ وہ برقع ہی پہنیں، ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے آزادی دی جائے گی اور کسی سے پردے، موسیقی اور داڑھی کے حوالے سے زبردستی نہیں کی جائے گی۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >