قومی بچت اسکیموں میں نکالی جانے والی رقوم جمع کروائے گئے فنڈز سے تجاوز کرگئیں

قومی بچت اسکیموں میں نکالی جانے والی رقوم جمع کروائے گئے فنڈز سے تجاوز کرگئیں

16 برس میں پہلی بار قومی بچت اسکیموں میں جمع کروائی جانے والی رقوم نکالے جانے والے فنڈز سے تجاوز کرگئی ہیں۔
خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے ایک رپورٹ جاری کی گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2004-05 کےبعد پہلی بار این ایس ایس کے تحت خالص بچت کی شرح گزشتہ مالی سال میں منفی رہی ہے۔

اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق قومی بچت اسکیموں (این ایس ایس) سے سرمایہ کاروں نے خالص بنیادوں پر3کھرب17 ارب20 کروڑ روپے نکال لیے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق صرف جون کے مہینے میں سرمایہ کاروں نے بچت اسکیم سے ایک کھرب 23 ارب 80 کروڑ روپے کے فنڈز نکالے حالانہ گزشتہ برس اسی مہینے میں سرمایہ کاروں کی جانب سے نکلوائی گئی رقوم کا حجم صرف ساڑھے 4 ارب روپے تھا۔

ماہرین بڑے پیمانے پر بچت اسکیم سے پیسہ نکلوائے جانے کو مالیاتی اداروں کی جانب سے قومی بچت اسکیموں میں سرمایہ کاری پر عائد پابندی کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ دیگر وجوہات میں بھاری مالیت کے پرائز بانڈز کیلئے رجسٹریشن کی شرط عائد کرنا، انسداد منی لانڈرنگ کے قوانین میں سختی اور صارف کی مکمل معلومات کی شرط بھی شامل ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >