پاکستان میں کارگو کنٹینر کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں، وجہ کیا ہے؟

پاکستان میں کارگو کنٹینر کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں، وجہ کیا ہے؟

گزشتہ 6 سے 8 ماہ کے دوران نقل و حمل کے چینلز میں فریٹ یعنی مال کی ترسیل کی شرح کئی گناہ بڑھ چکی ہے۔ فریٹ کی قیمتوں میں 4 سے5 گنا اضافہ ہو چکا ہے اس سے عالمی سطح پر درآمدات اور برآمدات کافی حد تک اثر انداز ہوئی ہیں۔

فریٹ کی شرح میں اضافہ اور کنٹینرز کی قلت ایک عالمی چیلنج بن چکا ہے جس کی وجہ سے تمام صنعتوں کی سپلائی چین اثر انداز ہو رہی ہیں۔ اس سے متعلقہ شعبوں اور صنعتوں مثلا آٹو مینوفیکچرنگ وغیرہ پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اس سے 3 ہزار ڈالر میں ملنے والا کنٹینر اب 10 ہزار ڈالرز کا ملتا ہے۔ اس سے پاکستان کی درآمدات بے حد متاثر ہو رہی ہیں۔

اس کاروبار سے وابستہ لوگوں کا خیال ہے کہ کورونا کے باعث شپنگ کی صنعت سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے۔ ہوا بازی کی صنعت پر لگائی جانے والی پابندیوں کی وجہ سے سامان کی ترسیل کے لیے سمندری نقل و حمل پر زیادہ دباؤ پڑا ہے۔ نتیجے میں کنٹینرز کا ملنا مشکل ہوگیا ہے۔ کسی شپنگ آرڈر پر گئے ہوئے کنٹینر کے دیر سے لوٹنے کا سیدھا اثر کسی دوسری کمپنی کی برآمدات یا درآمدات پر پڑتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی مانگ اور خالی کنٹینرز کی کمی نے ان کی قیمتیں اس قدر بڑھا دی ہیں کہ انہیں اب کورونا وبا سے پہلے والی قیمتوں پر لانا تقریباً ناممکن نظر آتا ہے۔

چیئرمین آف شپس ایجنٹس ایسوسی سیشن محمد اے راجپر کا کہنا ہے کہ چین نے باقی ممالک کے مقابلے میں کورونا کی روک تھام پہلے کرلی جس کے باعث ان کی مینو فیکچرنگ کا عمل بھی پہلے شروع ہوگیا۔ چین میں خالی کنٹینرز کی مانگ باقی دنیا کے مقابلے میں زیادہ بڑھی۔ وہ خالی کنٹینرز کے لیے سب سے زیادہ قیمت دینے کے لیے تیار تھے۔

چین میں بڑھتی ہوئی مانگ کی وجہ سے پاکستان میں خالی کنٹینرز کی قلت ہوگئی جو کہ ایک کافی عجیب بات ہے۔ پاکستان میں جو بھی خالی کنٹینرز آتے تھے وہ چین برآمد کردیے جاتے ہیں کیوں کہ چین کنٹینرز کی ذیادہ قیمت دے رہا ہے۔ انہوں نے اس مسئلے کو عالمی قرار دیا ہے جس میں چین، امریکہ اور یورپ کا سب سے بڑا کردار ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >