بالآخر امریکی ڈالر کی قیمت کو بریک لگ گئی، سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی

کرونا وائرس کے باوجود غیر ملکی سرمایہ کاری میں ریکارڈ اضافہ

ملک بھر میں بڑھتی ہوئی امریکی ڈالر کی قیمت کو بریک لگ گئی۔ سٹاک مارکیٹ شدید مندی کا شکار

تفصیلات کے مطابق کئی روز سے ڈالر کی قیمتیں بڑھنے کے بعد ایک ہی روز میں ڈالر کی قیمت میں کچھ کمی دیکھنے کو ملی ۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں ہفتے کے تیسرے کاروباری روز کے دوران انٹر بینک میں امریکی ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو بریک لگ گئی، امریکی کرنسی 38 پیسے کم ہو گئی اور قیمت 167 روپے 63 پیسے سے کم ہو کر 167 روپے 25 پیسے ہو گئی ہے۔

دوسری جانب پاکستان سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی دیکھنے کو ملی ۔۔ سارا دن اُتار چڑھاؤ کے بعد 333.25 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی ۔

کاروباری دن کے اختتام پر 100 انڈیکس 46396.71 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ کر بند ہوا۔

پورے کاروباری روز کے دوران کاروبار میں 0.71 فیصد کی تنزلی دیکھی گئی اور 14 کروڑ 35 لاکھ 26 ہزار 977 شیئرز کا لین دین ہوا جس کے باعث سرمایہ کاروں کو 50 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا۔

ماہرین کے مطابق سٹاک مارکیٹ میں مندی کی وجہ کرونا وبا ڈالر کی قدر میں تیزی، افغانستان کی وجہ سے خطے میں غیر یقینی صورتحال ہے۔ ماہرین کے مطابق ڈالر کی قیمت کو کنٹرول کرنے کیلئے حکومت کو سخت فیصلے لینا ہوں گے۔غیر ضروری درآمدی اشیاء کی حوصلہ شکنی کرنا ہوگی جبکہ غیرضروری تجارتی خسارے پر قابو پانے کیلئے اقدامات کرنا ہوں گے۔

  • یہ بریک وقتی ہے۔ سٹیٹ بنک نے ڈالر کی سپلائی بڑھا کر ڈالر کو روکا ہے۔ ایک دو دن تک پھر اوپر کو جانا شروع ہوجائے گا۔ شوکت ترین نے آتے ہی اسحاق ڈار کی پالیسیز اپنا لی تھیں۔ اب امپورٹس اس قدر زیادہ ہیں کہ ۲۰۱۸ میں بھی ماہانہ اس قدر نہ تھیں۔ ن لیگ نے اپنے آخری دو سال میں امپورٹ بڑھا کر گروتھ دکھائی تھی اور پی ٹی آئی بھی الیکشن کے لئے وہی کر رہی ہے۔ ملک گیا بھاڑ میں۔ کرنٹ اکاؤنٹ ۱۲ سے تیرہ ارب ڈالر رہے گا اور اگلے سال ۲۰۱۸ کی طرح ۱۸ سے ۲۰ ارب۔ ڈالر ۲۰۲۳ تک دو سو سے اوپر جا چکا ہو گا۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >