بڑھک مار کر بھیگی بلی بن جانا شریف برادران کی سیاسی روایت۔ طلعت حسین

بڑھک مار کر بھیگی بلی بن جانا، معافیاں مانگنا شریف بردران کی سیاسی روایت۔۔ طلعت حسین

بڑھک مار کر بھیگی بلی بن جانا اور مصنوعی بہادری کے پردے کے پیچھے معافیاں مانگنا وہ سیاسی روایت ہے جس میں ن لیگ کی قیادت نے بوریاں بھر بھر کر حصہ ڈالا ہے۔طلعت حسین

انڈیپنڈنٹ اردو میں اپنے کالم میں ن لیگ کے حامی سمجھے جانیوالے صحافی طلعت حسین نے ن لیگ کی اچھی خاصی کلاس لے لی۔ اپنےکالم میں طلعت حسین کا لکھنا تھا کہ بےعزتی کروانے کے بہت سے طریقے ہیں لیکن لیکن جو طریقہ نواز اور شہباز شریف نے اپنایا ہے وہ بےنظیر ہے۔ آرمی ایکٹ میں ترامیم اور شریف خاندان کا سیاسی بھگوڑا پن اگر آج سے چھ یا سات سال پہلے وقوع پذیر ہوتا تو کچھ اچنبھے کی بات نہ تھی۔ بڑھک مار کر بھیگی بلی بن جانا اور مصنوعی بہادری کے پردے کے پیچھے معافیاں مانگنا وہ سیاسی روایت ہے جس میں مسلم لیگ ن کی قیادت نے بوریاں بھر بھر کر حصہ ڈالا ہے۔

لیکن سابق آرمی چیف راحیل شریف کے دور سے لے کر جان لیوا بیماری کے علاج کے لیے باہر جانے تک نواز شریف، ان کے بھائی اور ان کا خاندان جس سیاسی بھونچال کا شکار رہا اس کے بعد محسوس یوں ہو رہا تھا جیسے غلام باغ میں اگائے جانے والے یہ سیاسی پودے زمین میں اپنی جڑیں اس حد تک مضبوط کر چکے ہیں کہ اب ان کو اپنے ووٹر کے علاوہ کسی اور سہارے کی ضرورت نہیں۔

طلعت حسین نے مزید لکھا کہ اسمبلیوں میں پہنچنے کے لیے خدا کو ناراض کرنے والے صرف اس وجہ سے ٹھہر گئے کہ عوام میں حقیقی جمہوریت کا جذبہ بیدار کرنے والی قوت کا ساتھ دینا آنے والے سالوں میں سیاسی طور پر منافع بخش نظر آ رہا تھا۔ لیکن پھر دونوں بھائیوں نے اپنی اولادوں کے ساتھ مل کر اپنی پرانی صفت کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ اپنی دیوقامتی کو بھس میں بدل دیا اور الٹے پاؤں ایسی دوڑ لگائی کہ پورس کے ہاتھی بھی حیران ہو گئے۔ دھاڑتا ہوا شیر بھیڑ میں بدل گیا اور خود ہی اپنے آپ کو منڈنے کے لیے حاضر کر دیا۔

طلعت حسین نے اپنے کالم میں لکھا کہ معاملہ صرف یہ نہیں ہے کہ ن لیگ کی قیادت نے لندن میں بیٹھ کر خاموشی کے ساتھ آرمی ایکٹ میں ترامیم اور دوسرے سروسز چیفس کے حوالے سے تجویز کردہ قانون سازی کو پڑھے بغیر ہی مان لیا۔ اگرچہ یہ بھی عظیم حماقت ہے۔ پہلے صرف فوج کا سربراہ قابل ایکسٹینشن سمجھا جاتا تھا اب نیوی، ایئر فورس سربراہان اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف بھی اس کے حقدار ٹھہریں گے۔ اس قانون کے مسودے کے مطابق اس کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔ اگر یہ قانون جوں کا توں پاس ہوتا ہے تو اس کے بعد سروسز کے سربراہان عملاً 10 سال کے لیے اپنی کرسیوں پر براجمان رہ سکیں گے۔

طلعت حسین نے الزام لگایا کہ لیکن اس سقم سے بھرپور قانونی دستاویز کو بلا پڑھے ماننے کی بے ایمانی سے بھی بڑھ کے وہ شرم ناک انداز ہے جس کو اپنا کر اس جماعت کی تمام بڑی قیادت نے اپنے کارکنان اور حمایتیوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے استعمال کیا۔ پہلے لندن میں بیٹھ کے سب کچھ طے کر لیا۔ دوسری طرف میڈیا میں افواہ پھیلا دی کہ جیسے ن لیگ اس معاملے پر سخت اصولی موقف اپنائے گی۔

خیال یہ کیا جا رہا تھا کہ چونکہ تمام جماعتیں اس آب بےشرمی سے منہ دھو رہی ہوں گی لہٰذا ن لیگ کے دو چار گھونٹ ہضم کر لیے جائیں گے لیکن ایسا نہ ہوا۔ ’ووٹ کو عزت دو‘ کے مشروب پر پلنے والی مخلوق جمہوری اقدار کی ایسی کھلی بےحرمتی برداشت نہ کر پائی۔ خواجہ آصف کی سربراہی میں ہونے والا پارلیمانی پارٹی کا اجلاس غیرمشروط حمایت کی بات ہوتے ہی ہڑبونگ اور ہوٹنگ کی نظر ہو گیا۔ کسی نے توبہ توبہ کے نعرے لگائے، کسی نے لعنت لعنت کہا، ایک آدھ نے تو ن لیگ کی سیاسی موت کی فاتحہ خوانی بھی کر ڈالی۔

طلعت حسین کا مزید کہنا تھا کہ اب یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف کی سیاست میں کوئی فرق نہیں۔ بڑا بھائی وقتی طور پر اپنے اندر اٹھنے والے سیاسی ابال کو نظریات کا نام دے کر چھلانگ لگاتا ہے اور پھر راستے میں دم توڑ کر دھڑام سے ادھر ہی آن گرتا ہے جہاں پر چھوٹا بھائی دھنیا پی کر اپنے بچوں اور ان کی جائیدادوں کو سنبھالے پہلے سے سجدے میں گرا ہوتا ہے۔ شریف خاندان کو صرف اپنے خاندان کے اثاثے عزیز ہیں اگر یہ بچ جائیں تو ان کی خدمت گزاری عمران خان اور پرویز الہیٰ سے بھی دو ہاتھ آگے ہو گی۔ کیا کمال ہے۔ کیا زوال ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >