سینٹ کا قیام کب کیوں اور کیسے عمل میں آیا اور کون کب چیئرمین سینٹ رہا؟

1971 میں پاکستان دو لخت ہوا تو قومی سطح پر صوبوں کی نمائندگی کا معاملہ اٹھا ۔تمام صوبوں کو برابری کی نمائندگی دینے کے لیے ایوان بالا یعنی سینیٹ کا قیام عمل میں لایا گیا اور اس کے پہلے چیئرمین بنے حبیب اللہ خان. انہوں نے چھ اگست 1973 کو عہدہ سنبھالا اور 5 اگست 1975 تک اس عہدے پر فائز رہے۔

اراکین نے ایک بار پھر حبیب اللہ خان پر ہی اعتماد کا اظہار کیا ۔یوں حبیب اللہ خان 6 اگست 1975 سے 4 جولائی 1977 تک اس عہدے پر قائم رہے۔

1977 میں مارشل لاء لگا دیا گیا اسمبلیاں ٹوٹ گئی اور تقریبا ساڑھے سات برس سینٹ نمائندگی سے محروم رہا۔21 مارچ 1985 کو چیئرمین کی سیٹ پر غلام اسحاق خان بیٹھے اور 12 دسمبر 1988 تک اس عہدے پر براجمان رہے۔

انیس سو اٹھاسی میں ہی سینٹ کو وسیم سجاد کی شکل میں تیسرا چیئرمین ملا 24 دسمبر 1988 کو عہدہ سنبھالا اور 12 اکتوبر 1999 یعنی دس سال تک اس عہدے پر موجود ہے ۔وسیم سجاد نے مسلسل چار بار چیئرمین سینیٹ منتخب ہو کر طویل ترین چیئرمین کا اعزاز بھی اپنے نام کیا۔

انیس سو ننانوے میں ایک بار پھر مارشل لاء لگا دیا گیا اور سینٹ تقریبا چار سال تک نمائندگی سے محروم رہا۔ 2003 میں سینیٹ اراکین نے محمد میاں سومرو پر اعتماد کا اظہار کیا جو گیارہ مارچ دو ہزار نو تک چیئرمین کی نشست پر براجمان رہے۔

2009 میں چیئرمین کی سیٹ پر فاروق ایچ نائیک براجمان ہوئے اور 11 مارچ 2012 تک اس عہدے پر فائز تھے
2012 میں پھر تبدیلی آئی اور چیئرمین کی نشست نیر بخاری کے پاس آئی جو گیارہ مارچ 2015 تک اس عہدے پر موجود رہے۔

2015 میں سینیٹ اراکین کا اعتماد رضا ربانی کو حاصل ہوا انھوں نے 12 مارچ 2015 کو عہدہ سنبھالا اور 11 مارچ 2018 تک اس عہدے پر موجود رہے۔

2018 میں سینٹ میں ایک بار پھر تبدیلی آئی اور صادق سنجرانی چیئرمین سینیٹ بن گئے جنہوں نے بارہ مارچ2018 کو عہدہ سنبھالا اور اب تک اس عہدے پر موجود ہیں۔

اب 3 مارچ2021 کو سینیٹ انتخابات ہونے جارہے ہیں اب دیکھتے ہیں کہ اگلا چیئرمین سینٹ کون ہوگا جو بھی ہوگا اس کا نام تاریخ میں ضرور لکھا جائے گا۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >