جنرل اختر عبدالرحمن شہید، جس نے اپنے وقت کی سپرپاورکو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا

میجر (ر) ابن الحسن (ستارہ امتیاز)

ساری دنیا میں ایک معقول طریقہ یہ ہے کہ ایسے لوگ جنہوں نے اپنی زندگی کسی اعلیٰ مقصد کے لیے وقف کردی ہو، وہ اگر اس مقصد کو حاصل نہ بھی کرسکے ہوں، تو انہیں ان کی کوششوں، ان کے ایثار، ان کے خلوص کے تعلق سے یاد رکھا جاتا ہے۔ لیکن ہمارے ملک کی بے اعتبار اورسوگوار تاریخ میں اس تہذیبی رکھ رکھاو سے برابر انحراف کیا جاتا رہا ہے۔ یہاں مرحومین کو بڑی آسانی اوربددیانتی کے ساتھ معتوبین قرار دے دیا جاتا ہے۔ جب مرنے والا اپنے بتانے میں کچھ بتانے، کچھ سنانے کے قابل نہیں رہتا،جب اس کا سارا حساب کتاب اللہ کی بارگاہ میں ہی کیا جانا مقرر ہوتا ہے، تب نئے اہل اختیار اور ارباب اقتدار اور اس پر نام دھرنے اور الزام تراشیاں کرنے میں مشغول ہو جاتے ہیں۔

یہ نئے آنے والے، جانے والوں کو بدنام و خوار کرکے خود نیک کام ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کارناموں اور خدمات کو، جو جانے والوں نے وطن اور اہل وطن کے لیے انجام دی ہوتی ہیں، فراموش اورمسخ کرنے کی سعی لاحاصل میں اپنی تمام توانیاں اپنے تمام وسائل ضائع کرتے ہیں۔ لیکن اللہ کا نظام ایسا اٹل اور بے لاگ ہے کہ جو دوسروں کا برا چاہتے ہیں،وہ خود بھی اچھائیاں سمیٹ نہیں پاتے اور جو دوسروں کی خوبیاں ڈھونڈتے اور ان کا ا عتراف کرتے ہیں، خود بھی معاشرے میں سرخرو ہوتے ہیں اور معاشرہ کو شاد وآباد کرتے ہیں۔

قوموں کا بھی یہی حال ہے، جو اقوام اپنے مشاہیر اور نابغہ ہائے روزگار کے کارناموں اور خدمات کی قدر کرتی ہیں، اسلاف کے نام اور کام کو یاد کرکے فخر سے اپنا سر بلند کرتی ہیں، وہ ہمیشہ سرفراز رہتی ہیں۔ ان کے جانے والے جو کام ادھورا چھوڑ کر جاتے ہیں، آنے والے اسے احسن طریقہ پر پورا کرتے ہیں، نئے کارنامے انجام دیتے ہیں۔ اعلیٰ اقدار کی پاسداری کرتے ہیں۔ اچھی روایات کو آگے بڑھاتے ہیں۔ایسی قومیں متواتر کارہائے نمایاں انجام دیتی رہتی ہیں۔ اس لیے وہ پسپا اور نامراد نہیں ہوا کرتیں۔ اس شکر کا ایک معروف طریقہ یہ ہے کہ وہ بڑی بڑی نعمتوں اور برکتوں کو نظر انداز کرکے چھوٹی چھوٹی مایوسیوں اور محرومیوں کا رونا نہیں روتی رہتیں۔ وہ اعلیٰ مقامات کی متلاشی ہوتی ہیں اور اگر توفیق ہو اللہ پر بھروسہ کرکے اور توفیق نہ ہو تب بھی خود اعتمادی کے ساتھ ان تک پہنچنے کی سعی کرتی ہیں۔

1980ء کے اوائل سے 1988ء تک کے عرصے میں پاکستان اپنی تاریخ کے ایک عجیب و غریب دور سے گزرا ہے۔ اس عشرہ میں پاکستانی آرمی کو جو قیادت حاصل رہی، وہ اپنی سمجھ بوجھ، پیشہ ورانہ لیاقت اور ہنرمندی، وسعت نظر اور تدبرکے اعتبار سے بہت ممتاز اور حیرت انگیز طور پر باصلاحیت افسران پر مشتمل تھی۔ یہ بھی عجیب اتفاق تھا کہ یہ اعلیٰ افسران اپنے پیشرو افسران کے مقابلہ میں بالکل دیسی تہذیب اورخالص پاکستانی ذہنیت رکھنے والے افسران تھے۔ نہ ان پر سنڈھرسٹ کی چھاپ تھی اور نہ یہ برطانوی راج کے اثرات کی تصویر تھے۔

ان کی ذہنی تربیت اور کردار کی تعمیر پاکستان میں ہوئی تھی اور اسی سرزمین اور یہیں کے ماحول میں انہوں نے جو بھی تجربات حاصل کیے، انہی کی روشنی میں انہوں نے اپنے فکروفلسفہ، اپنے مزاج اور عادات کو سنوارا اور پختہ کیا تھا۔ ان کی نظریاتی اساس، ان کا دین اور ان کا تشخص اسلام اور پاکستان تھا۔ان اعلیٰ افسروں میں جنرل ضیاالحق،جنرل اختر عبدالرحمن، جنرل رحیم الدین، جنرل خالد محمود عارف کا تعلق 1980ء کے عشرہ میں راہ راست پاکستان کے نظم ونسق اوراس کی قومی زندگی کے بارے میں حکمت عملی تیار کرنے اور فیصلے کرنے سے تھا۔

میں صرف اختر عبدالرحمن کے اس تعلق کا ہی ذکر کروں گا، جو قومی معاملات میں ان کا محمد ضیاالحق کے شریک کار کی حیثیت سے رہا۔ اختر عبدالرحمن کے اشتراک سے ہی جنرل محمد ضیاالحق نے وہ کارنامہ انجام دیا تھا، جس سے ساری دنیا پر یہ بات روزروشن کی طرح عیاں ہوتی جارہی ہے کہ یہ دونوں شہدا کتنے باصلاحیت تھے۔ یہی افغانستان کا مسئلہ تھا کہ جہاں روس جیسی عظیم اور خوفناک طاقت اپنا عسکری قبضہ اور اقتدار منوانے کا عزم لیے موجود تھی،

یہی بھارت تھا،جہاں اندراگاندھی جیسی آگ اور خون سے کھیلنے والی حکمران ساری دنیا میں اپنا لوہا منواچکی تھی، اور مشرق وسطیٰ سے جنوبی ایشیا تک کے سارے علاقہ پرتسلط کی خواہاں تھی، یہی ایران اور عراق تھے، جو برسرپیکار تھے، اور دونوں ہی برادر اسلامی ممالک سے ربط وخلوص قائم رکھنے کامسئلہ تھا، یہی دنیائے اسلام تھی، جس میں حرم کی پاسبانی کے لیے مسلمانوں کو یکجا رکھنے کے خواب کو حقیقت بنانے کی کوششیں درکار تھیں،یہی امریکہ تھا، جہاں سردوگرم چشیدہ صدر ریگن وقت کے سب سے بااختیار فرماں روا کی حیثیت سے وہائٹ ہاوس میں رہایش پذیر تھے۔

جو لوگ 1980ء کے عشرہ کو اپنی کمزور یادداشت یا سفاک عصبیت کی وجہ سے فراموش نہیں کر چکے ہیں، بلکہ جنہیں یہ یاد ہے کہ افغانستان میں روسی فوجیں کس طرح د اخل ہوئیں اور برزنیف سے گوربا چوف تک روسی سربراہوں اوران کے وزرا، سفرا، اور جرنیلوں نے پاکستان کو ڈرانے، دھمکانے، تنگ کرنے، پاکستانی قوم کی نفسیات کو مجروح اور ذہن کو تذبذب اور پراگندگی کا شکار کرنے اور پاکستان میں خود پاکستانی سیاسی عناصر کے ساتھ مل کر تخریب کاری، دہشت گردی اور انتشار کیسے وسیع پیمانہ پر برپا کیا، وہ 1988 ء میں روسی فوجوں کے افغانستان سے انخلا کے واقعہ کی تاریخی، عسکری اوربین الاقوامی اہمیت کا کسی حد تک اندازہ لگا سکتے ہیں۔

کہا تو یہ گیا کہ ”آپ ایک سپرپاور کو سزا نہیں دے سکتے۔“ اور جس وقت اخباری اور سیاسی حلقوں میں یہ فقرہ سنا گیا، تو اسے ایک نہایت مدبرانہ اور بامعنی مقولہ کے طور پر دانایان عالم نے اٹھتے بیٹھتے دہرایا کہ کیا پاکستان اور کیا پاکستان کی فوجی قوت اور قومی وسائل، لیکن وہ جو شاعر مشرق نے کہا تھا، وہ اس چلتے ہوئے فقرہ سے زیادہ بامعنی اور بلیغ تھا،
خودی بلند تھی ا س خوں گرفتہ چینی کی
کہا غریب نے جلاد سے دم تعزیر
ٹھہر ٹھہر بہت دلکشا ہے یہ منظر
ذرا میں دیکھ تو لوں تابناکی ء شمشیر

اور یہی ہوا بھی۔ جنرل ضیاالحق اور اخترعبدالرحمن نے اپنی شہادت سے آٹھ برس قبل تابناکیء شمشیر دیکھی اوراس کے خوش نما منظر کے ان مضمرات کو سمجھ لیا تھا، جو قوت ربانی، تحمل، استقامت اوربلند حوصلہ کے حامل لوگ ہی دیکھ سکتے اور سمجھ سکتے ہیں۔جو اپنے اسلاف کے عزم اور تقویٰ سے ناواقف نہ تھے، اور جو راہنمائی اور تقلید کے لیے برصغیر کی دیومالائی تہذیب اورفکر یا مغرب کے بے روح اور مادی فلسفہ حیات کے محتاج نہ تھے، بلکہ جنہیں ہدایت کے لیے قرآن، تقلید کے لیے رسول خدا اور صحابہ کرام کی سیرت مبارکہ اور غوروفکر کے لیے اپنے فلسفہ حیات، اپنی تاریخ، اپنی تہذیب پر مکمل بھروسہ تھا۔

دوسری اقوام کی تاریخ اوران کے عطا کردہ علوم سے وہ پوری طرح استفادہ کرنے کے اہل تھے، اور انہوں نے ان سے کماحقہ فائدہ اٹھایا بھی، لیکن یہ علوم ان کے لیے جزو ایمان کی حیثیت نہیں رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ کہ انہوں نے اپنی حکمت عملی سے ایک بہت ہی خطرناک دور میں وہ کچھ حاصل کیا، جسے حاصل کرنے کا ان سے قبل تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔

جو لوگ بعدمیں کسی ایک برکت سے بھی پاکستان کو ہمکنار نہیں کرسکے، ان کا تو یہ مقام ہی نہیں کہ وہ کردار اور ایمان کی اعلیٰ ترین صلاحیتوں اور پیشہ ورانہ مہارت اور کارکردگی سے مزین اور پوری وردی میں فوجی کمان کی ذمے داری انجام دیتے ہوئے شہید ہو جانے والوں کا محاسبہ کریں، اور ان کے مدار ج کا تعین کریں۔ البتہ سنجیدہ حلقوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ پاکستان کی دفاعی اور جغرافیائی حالات کے پس منظر میں 1980 ء سے 1988 تک کی دفاعی حکمت عملی، عسکری تنظیم اور تعمیر نو کا جائزہ منصفانہ انداز میں لیں اورخود ہی اندازہ لگا لیں کہ دسمبر 1971ء میں ہم ایک ہزیمت یافتہ قوم کے طور پر کس جگہ کھڑے تھے اور آج ہماری دفاعی تنظیم کے بارے میں عالمی مبصرین کے کیا اندازے ہیں۔

اختر عبدالرحمن نے دفاع کے بہت ہی حساس شعبوں کو اتنا موثر اورفعال کر دیا تھا کہ ہماری خارجہ اور دفاعی حکمت عملی نہایت سائنٹفک اور مربوط انداز میں اپنے جغرافیائی ماحول کی پوری نگران تھی۔ اس کے پاس مسائل اور مراحل سے عہدہ برآ ہونے کے تمام ضروری وسائل تھے، ہماری دفاع اور خارجہ امور کی مشینری حسب ضرورت منصوبے بنانے میں مصروف رہتی تھی اور وہ ہر ناگہاں اورغیر متوقع صورت حال کا سامنا کرنے کی بھی اہل تھی۔

اس نے بہت ہی موثراورمتنوع منصوبے بنانے کی صلاحیت حاصل کر لی تھی اور ان پر نہایت خاموشی سے عمل پیرا ہونے کے فن پر بھی اس کی دسترس ہو گئی تھی۔ ہماری فوج، فضائیہ اور بحریہ کو جوقوت، تیاری، تربیت اوراعتماد آج حاصل ہے، وہ سب اسی 1980ء سے 1988ء تک کے دورمیں حاصل ہوا۔

بہت سے ایسے راز رہے ہوں گے، جن سے صرف ان دونوں جرنیلوں کے کان اور آنکھیں آشنا ہوں گی، اور جو ان کے سینہ میں مدفون انہی کے ساتھ رخصت ہو گئے ہوں گے، لیکن وہ منصوبے اور کامیابیاں، جو یہ اپنے پیچھے چھوڑ گئے ہیں، مجھے یقین ہے کہ تاحال فوج ان سے فائدہ اٹھانے پر قادر ہے۔ کیوں کہ یہ سب منصوبے قابل عمل ہیں۔

یہ پاکستان کے دفاعی مسائل اور امکانات کو پوری طرح سمجھ کر حقیقت پسندانہ انداز میں مرتب کیے گئے۔ یہی ان دوشہیدوں یعنی جنرل محمد ضیاالحق اور جنرل اختر عبدالرحمن کا پاکستان اور عساکر پاکستان کے لیے اپنے پیچھے چھوڑا ہوا عطیہ ہیں۔ وہ اول و آخر مسلمان اور پاکستانی تھے۔ اللہ ان کے درجے بلند کرے۔

  • behnchod bus propaganda chalai jao, 65 hm nay jeeti, 71 hm nay jeeti wo bhn k loray amreeki time py nhi aaye, kargil k hum winner hyn, madarchodo kabhi kuch haray bhi ho? iss jurnail harami nay bhi dollar khaye aur apni bund tak stuff kiya dollar, apny bacho ko amreeka parhaya aur qoum k bacho ko afghanistan bheja, yhan gandoo madrassay banaye, saudio ko bhi gaand di, aur akhir myn aglon nay jab acha trha inki chod li tou seconds myn ura diya jahaaz. yahn kuch boosri k aisay hyn jo abi tk inn jesy haraam khoron k lye dallah giri kar rehyhayn

    • tum jaise pakhaney or kanjaron ke hote huwe dushman kia cheez hai. khud un bc amritasri dallon ki tooi saaf karte ho aur Pakistan ke khilaf bakwas karte ho. jao kisi hindu brahmin ke ghar mein ja ke ghulam ki zindagi guzaro.


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >