میاواکی تکنیک ہے کیا ؟میاواکی جنگلات عام جنگلات سے کیسے مختلف ہوتے ہیں؟

وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز 10 بلین ٹری سونامی‘ پروجیکٹ کے تحت لاہور میں ’دنیا کے سب سے بڑے میاواکی شہری جنگل‘ کا افتتاح کردیا۔یہ جنگل سو کنال سے زیادہ رقبے پر قائم کیا گیا ہے اور اس میں ایک لاکھ 65 ہزار پودے ہیں۔

یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ ہ جنگل اگانے کی میاواکی تکنیک کیا ہے کیا ہے اور اس میں کیا خاص بات ہے کہ وزیراعظم عمران خان اس کی بات کرتے ہیں اور حکومت یہ تکنیک اپنارہی ہے؟

اکیرا میاواکی جاپان سے تعلق رکھنے والے ماہرِ نباتیات تھے اور انہوں نے 60 سال کی ریسرچ کے بعد جنگلات اگانے کا ایک نیا طریقہ ایجاد کیا ہے جو انہی کے نام پر میاواکی تکنیک کہلاتا ہے۔میاواکی ایک ایسی تکنیک ہے جس کیلئے آپکو زیادہ محنت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر آپکے پاس 5 یا 10 مرلے جگہ ہے تو آپ اپنا جنگل بھی لگاسکتے ہیں۔

جیسے لاہور میں ایک نجی ہاؤسنگ کمپنی کے سی ای او شہراز منو نے بھی اپنی ہاؤسنگ اسکیم میں میواکی طریقے سے ایک چھوٹا سا جنگل لگانا شروع کیا جو چھ کینال کے رقبے پر مشتمل ہے، انہوں‌نے ایک سال قبل میواکی کے ایک ماہر کی مدد سے ساڑھے پانچ ہزار درخت لگائے تھے جو تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور بہت خوبصورت منظر پیش کر رہے ہیں۔

یہ جنگلات عام جنگلات کی نسبت 10 گنا تیزی سے بڑھتے ہیں۔ ایک عام جنگل کو تیار ہونے میں 200 سے 300 سال لگ جاتے ہیں‌یعنی کئی نسلیں لگ جاتی ہیں تب جاکر جنگل تیار ہوتا ہے۔

میاواکی تکنیک کے تحت 20 سے 30 سال میں ایک پورا جنگل تیار ہوجاتا ہے۔ اس تکنیک میں پودے 30 گنا زیادہ لگتے ہیں یعنی جہاں 1 پودا لگنا ہوتا ہے وہاں 30 پودے لگتے ہیں، اسکے لئے زیادہ محنت کی ضرورت نہیں ہوتی، پہلے دو سال اسکا خیال رکھنا ہے اسکے بعد خود ہی آگے بڑھتے رہتے ہیں۔

اس طریقہ کار میں پودوں کو بہت قریب قریب لگایا جاتا ہے ، انہیں‌دن میں کم ازکم 8 گھنٹے روشنی چاہئے ہوتی ہے۔ اس میں ہر پودا دوسرے پودے کو سپورٹ کرتا ہے۔

میاواکی جنگل اگانے کا طریقہ کار انتہائی دلچسپ اور سادہ ہے، اس کیلئے پہلے زمین کو تیار کیا جاتا ہے، مٹی کے اندر کچھ چیزوں‌کو مکس کیا جاتا ہے۔اس میں گنے کی پھوس، سوکھے پتے، چھلی کا پسا ہوا گودا، اسکے علاوہ چاول، چلغوزےم ناریل کا چھلکا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اس میں پانی، گوبر کی کھاد وغیرہ بھی استعمال کی جاتی ہے۔

ان چیزوں‌کو استعمال کرنیکا مقصد یہ ہوتا ہے کہ مٹی کی کثافت کم ہوجاتی ہے، مٹی نرم ہوجاتی ہے اور یہ جڑوں کو آگے بڑھنے میں‌مدد کرتی ہے۔ اس بات کو بھی یقینی بنایا جاتا ہے کہ اگر اس میں‌پانی ڈالیں گے تو زیادہ دیر تک نمی قائم رہے گی۔

میاواکی کے تحت شرط یہ ہے کہ آپکو اپنے علاقائی پودے استعمال کرنا پڑیں گے، یہ نہیں کرسکتے کہ آپ پودے دوسروں علاقوں یا ممالک سے منگوائیں۔ ان علاقائی پودوں کے استعمال کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ یہ اپنی زمین سے مانوس ہوتے ہیں، جیسے پنجاب میں‌پیپل، آم، شہتوت، کیکر، جامن، مالٹا علاقائی پودے ہیں۔

اس میں ایک ہی قسم کے پودے استعمال نہیں‌کئے جاسکتے، آپکو مختلف قسم کے پودے استعمال کرنا پڑیں‌گے جن میں‌ پھل دار، پھول دار،سایہ دار، جھاڑی درخت ، بیلیں اور دیگر اقسام شامل ہیں۔

اسی طرح آپکو ہر لائن میں درخت لگانے کا پیٹرن تبدیل کرنا پڑتا ہے جیسے آپ ہر نے ایک لائن میں پہلے بڑا درخت پھر پھل دار یا جھاڑی نما درخت لگائے ہیں تو دوسری لائن میں‌پیٹرن تبدیل کرکے پھل دار کی جگہ جھاڑی نما درخت لے آئیں اور تیسری لائن میں‌پھول داردرخت لے آئیں۔ یہ پیٹرن نہ صرف سورج کی روشنی پودوں تک پہنچنے میں مدد کرتا ہے بلکہ ایک قدرتی جنگل کا ماحول پیدا ہوجاتا ہے۔

ایک بار جب جنگل تیار ہوجاتا ہے تو پانی لگانے کے بعد اس میں سوکھے پتے، جانوروں‌کا فضلہ بچھادیا جاتا ہے، تاکہ دیر تک نمی برقرار رہے اور ڈائریکٹ دھوپ زمین پر نہ پڑے۔ پودے لگانے کے بعد ہر پودے کے ساتھ ایک ڈنڈی لگادی جاتی ہے جو شروع کےکچھ ماہ کیلئے ہوتا ہے، اسکا مقصد یہ ہوتا ہے کہ پودے اوپر کی جانب بڑھیں ، ٹیڑے میڑے نہ ہوں تاکہ سورج کی روشنی پڑتی رہے۔

آپکو اس تکنیک کے تحت کسی قسم کی کھاد ، ادویات کی‌ضرورت نہیں ہوتی، زیادہ سے زیادہ صرف جانوروں‌کا گوبر استعمال کرسکتے ہیں‌، دو سال تک آپکو اسکی نگرانی کرنا پڑتی ہے ، یہ دیکھنے کیلئے کہیں‌کوئی پودا ٹیڑھا تو نہیں، سورج کی روشنی ٹھیک پڑرہی ہے۔

مصنوعی جنگل لگانے کا تجربہ کرنے والے اربن فاریسٹ کے فاؤنڈر شہزاد قریشی نے بتایا کہ صرف تین سال میں وہاں ایک ایسا ماحول پیدا ہو جاتا ہے جہاں پرندے، ہر قسم کے حشرات، تتلیاں، چڑیاں، شہد کی مکھیاں، گرگٹ وغیرہ آنا شروع ہو جاتے ہیں جس سے جنگل کا ایک پورا ماڈل تیار ہو جاتا ہے ۔۔

انہوں نے مزید کہا کہ میاواکی طریقے سے لگائے گئے یہ درخت مقابلتاً دس گنا زیادہ تیزی سے بڑھتے ہیں اور مقابلتاً تیس گنا زیادہ آکسیجن پیدا کرتے ہیں۔ تیس گنا زیادہ کاربن ڈائی آکسائڈ جذب کرتے ہیں اور ہوا میں موجود الرجی پیدا کرنے والے اجزا کو تیس گنا زیادہ جذب کرتے ہیں اور یوں اس علاقے کی ہوا کو صاف کر کے ایک صحت مند فضا پیدا کر دیتے ہیں۔

کراچی میں میاواکی طریقے سے چھوٹا مصنوعی جنگل لگانے کا تجربہ کرنے والے اربن فاریسٹ کے فاؤنڈر شہزاد قریشی نے کہا کہ اب تک تین ہزار سے زیادہ لوگ اس پارک میں آ کر پودے لگا چکے ہیں اور ان کا دعویٰ تھا کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو پانچ سال میں یہاں ایک چھوٹا سا قدرتی جیسا جنگل بن جائے گا جس سے پورے علاقے میں مجموعی درجہ حرارت کم ہو گا، ہوا صاف ہو جائے گی اور لوگوں کی صحت پر اچھا اثر پڑے گا۔ اور یہ ایک ایسی مثالی چیز بن جائے گی جسے دیکھنے لوگ دور دور سے آیا کریں گے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >