میری بیوی لاکھوں میں ایک ہے، ویلنٹائن ڈے پر بیوی سے محبت کا والہانہ اظہار

میری بیوی لاکھوں میں ایک ہے، ویلنٹائنز ڈے پر ملتان کے شہری کا بیوی سے محبت کا والہانہ اظہار

کہتے ہیں اگر جیون ساتھی سمجھنے والا ہو تو پھر زندگی جنت ہے۔۔ ملتان کے رہائشی مختار احمد کی زندگی بھی ان کی اہلیہ نے جنت بنادی۔ ملتان کے دامن میں واقع غازی آباد کے رہائشی مختار احمد جو رکشہ چلا کر گزر بسر کرتے ہیں، بنا چھت کے ایک کمرے میں گزارا کرتے ہیں۔ لیکن اہلیہ بیگم شاہین اختر  نے زندگی کی تمام مشکلات کو آسان کردیا۔۔

انیس سو چوراسی میں دونوں شاندھی کے بندھن میں بندھے پھر کراچی آگئے، خوشیوں سے بھری زندگی کو اس وقت نظر لگی جب شاہین اختر کا مسلسل نویں مرتبہ حمل ضائع ہوا۔اس کے بعد شاہین اختر صدمے میں چلی گئیں۔۔ اور حالت بگڑتی گئی۔۔ لیکن مختار نہ کبھی بھی بیوی کو نہ چھوڑا۔ ایک خاتون کی طرح بیوی کی خدمت کی ۔ علاج کرواتے رہے۔۔ پھر کراچی سے ملتان واپس آگئے۔وہاں بھی انہیں ٖغربت اور تنگ دستی کا سامنا رہا لیکن مختار ہمت نہ ہارے اور خوشی سے زندگی گزارتے رہے اور بیوی کا بھی خیال رکھتے رہے۔۔

اور اب بھی  مختار روزانہ  بیوی کو ساتھ لے کر جاتے ہیں۔ کہتے ہیں شمشاد ان کے بغیر نہیں رہ سکتی۔۔اتنی محبت کرتی ہے ہر وقت انتظار کرتی تھی۔ وہ دونوں قہوے کے ساتھ سوکھی روٹی کا ناشتہ کر کے صبح گھر سے نکلتے ہیں۔ دن کے وقت کسی ہوٹل سے ایک ہی پلیٹ خرید کر دونوں کھانا کھا لیتے ہیں۔ مختار پہلے ان کو کھلاتے ہیں، پھر خود کھاتے ہیں۔ جوں ہی ضرورت کے مطابق پیسے بن جائیں، وہ گھر واپس لوٹ آتے ہیں۔

مختار احمد کہتے ہیں ’کم زیادہ، اچھے برے دن تو آتے رہتے ہیں مگر ایسا نہیں کہ ذرا سا بُرا وقت آیا اور بیوی کو چھوڑ دیا۔’ رکشہ انھوں نے تین ماہ قبل ہی خریدا ہے اور وہ پر امید ہیں کہ جلد اتنے پیسے بنا لیں گے کہ کمرے کی چھت ڈال سکیں۔

ویلنٹائنز ڈے پر مختار کی کہانی محبت کرنے والوں کیلئے ایک اعلی مثال ہے کہ جب مشکل ہو آسانی زندگی بھر ساتھ دینا ہے محبت نبھانی ہے


  • 24 گھنٹوں کے دوران 🔥

    View More

    From Our Blogs in last 24 hours 🔥

    View More

    This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept

    >