مولانا ابوالاعلی مودودی کے بیٹے کے ساتھ ایک ریٹائرڈ کرنل نے کیسے فراڈ کیا؟

ممتاز مذہبی سکالر ابوالاعلی مودودی کے بیٹے کے ساتھ ایک ریٹائرڈ کرنل نے کیسے فراڈ کیا؟

ریٹائرڈ کرنل نے مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کے بیٹے کے ساتھ کیسے فراڈ کیا؟

ریٹائرڈ کرنل نے مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کے بیٹے کے ساتھ کیسے فراڈ کیا؟مزید تفصیلات: https://www.independenturdu.com/node/40436

Posted by Independent Urdu on Friday, July 3, 2020

انڈیپنڈنٹ اردو کے مطابق ممتاز مذہبی سکالر ابوالاعلی مودودی کے بیٹے کی جانب سے وزیراعظم پورٹل پر تین بار شکایت کی گئی کہ اس کو ایک ریٹائرڈ کرنل کی جانب سے 20 سال قبل مالی فراڈ کا نشانہ بنایا گیا ہے، مولانا مودودی کے بیٹے خالد فاروق مودودی گزشتہ 20 سال سے انصاف کے لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے، تاہم اب آکر لاہور پولیس کی جانب سے اس کا معاملہ فعال کرتے ہوئے تفتیش کے لئے 3 رکنی کمیٹی بنائی گئی ہے، جس کی جانب سے بھی کوئی قابل اطمینان سے تفتیش نہیں کی جا رہی۔

اپنے ساتھ ہوئے مالی فراڈ کی تفصیلات بتاتے ہوئے خالد فاروق مودودی نے انڈیپنڈنٹ اردو کو بتایا کہ آج سے 20 سال قبل 2000 میں، میں نے ویو ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک کرنل ریٹائرڈ یونس جاوید سے اس کی سوسائٹی میں سات کنال 6 مرلے کے پلاٹ خریدے تھے، جو اس نے مجھے اس معاہدے کے تحت فروخت کئے کہ جلد ہی اس کی ہاؤسنگ سوسائٹی کے پلاٹ ڈی ایچ اے میں آجائیں گے، جس کے بعد وہ مجھے ان پلاٹس کی فائل بنا کر دے گا۔

خالد فاروق نے بتایا کہ ریٹائرڈ کرنل یونس جاوید نے اپنی ہاؤسنگ سوسائٹی ڈی ایچ اے میں آنے پر اپنی ہاؤسنگ سوسائٹی کے ساتھ ساتھ میرے پلاٹ بھی بیچ دیئے، لیکن بیس سال گزرنے کے باوجود نہ تو مجھے میرے پلاٹس کی رقم واپس کی گئی اور نہ ہی مجھے میرے پلاٹ دیے گئے، اپنے پلاٹس کے حصول کے لئے اب تک متعدد درخواستیں دے چکا ہوں لیکن ریٹائرڈ کرنل کے خلاف اب تک کوئی کارروائی نہیں کی جا سکی۔

خبر رساں ادارے کو فراڈ کی تفصیلات بتاتے ہوئے خالد فاروق مودودی نے کہا کہ جب میں نے اس فراڈ کے حوالے سے ڈی ایچ اے کے حکام کے ساتھ رابطہ کرتے ہوئے ان سے استدعا کی کہ یہ مذکورا پلاٹس میرے ہیں اور ان کی اصل دستاویزات بھی میرے پاس موجود ہیں لہٰذا ان پلاٹس کی رقم مجھے ادا کی جائے نہ کے ریٹائرڈ کرنل کو، ڈی ایچ اے کے حکام نے میری اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے جواب دیا کہ یہ معاملہ آپ کا اور ریٹائرڈ کرنل کا ہے ہم اس میں فریق نہیں بن سکتے۔

انہوں نے کہا کہ میں اپنی درخواست لے کر اس وقت کے کورکمانڈر شاہد عزیز جو بعد میں نیب کے سربراہ بھی رہے ان کے پاس گیا تو انہوں نے میری درخواست پر ایکشن لیتے ہوئے ریٹائرڈ کرنل یونس جاوید کو سختی سے پابند کیا کہ فلفور میری رقم واپس کریں، جس پر ریٹائرڈ کرنل نے شاہد عزیز کے روبرو مجھے رقم دینے کا وعدہ کیا اور مجھے چیک دیئے جو کیش کروانے گیا تو باونس ہو گئے اور میری ایک کروڑ 85 لاکھ کی رقم مجھے نہ مل سکی۔

مولانا مودودی کے صاحبزادے خالد فاروق مودودی نے کہا کہ چیک باؤنس ہونے کے بعد میں نے 2005 میں لاہور کے فیکٹری ایریا میں ایف آئی آر درج کروائی اور 2007 میں عدالت میں مقدمہ بھی درج کروایا اور 2009 میں عدالت کی جج ظفر اقبال نے میرے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے ریٹائرڈ کرنل کو میری ایک کروڑ 85 لاکھ روپے کی رقم واپس کرنے کا حکم دیا، آج اس عدالتی فیصلے کو 11 سال بیت چکے ہیں لیکن ریٹائرڈ کرنل کی جانب سے اس فیصلے پر عمل درآمد نہیں کیا جا سکا، جو میرے لیے شدید پریشانی کا باعث ہے۔

مولانا مودودی کے صاحبزادی نے 2018 میں چیف جسٹس ثاقب نثار کو بھی خط لکھ کر اس معاملے پر نوٹس لینے کا کہا تھا لیکن ان کی کوئی شنوائی نہ ہو سکی، اب انہوں نے موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوا کے نام ایک خط لکھا ہے، جس میں انہوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ آرمی کا ادارہ احتساب کے لئے سب سے معتبر ادارہ ہے، اس امید کے ساتھ آپ سے درخواست کی جا رہی ہے کہ آپ ریٹائرڈ کرنل یونس جاوید کے خلاف ضابطے کی کارروائی کرتے ہوئے مجھے انصاف فراہم کریں گے اور میری رقم بھی واپس دلوائی جائے گی۔

دوسری جانب پولیس کا اپنے موقف میں کہنا تھا کہ ہم نے مولانا مودودی کے صاحبزادے کی درخواست پر ایف آئی آر کا اندراج کرنے کے بعد تین رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی، جس نے ریٹائرڈ کرنل کے خلاف مقدمے کا چالان بنا کر ان کی گرفتاری کی کوشش کی لیکن وہ کرنل ریٹائرڈ کی گرفتاری عمل میں نہ لا سکے۔

  • This is a reflection of the state of affairs of Judicial system and Education about Deen in our society.

    PML-N & PPP have been in government for a collective 10 years but story is released this year!


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >