کم عمری میں سزائے موت پانے والے شخص کو 22 سال بعد رہائی کیسے ملی؟

قتل کے جرم میں سزائے موت پانے والا مجرم 22 سال بعد جیل سے رہا۔

منڈی بہاوالدین کی جیل میں نہ بالغ ہونے کی وجہ سے قتل کے جرم میں سزائے موت پانے والا شخص 22 سال بعد جیل سے رہا ہو گیا، محمد اقبال کو 1999میں تب سزا سنائی گئی تھی جب وہ صرف 17 سال کا تھا۔

22 سال بعد جیل سے رہا ہونے والے محمد اقبال کو 1998 میں ڈکیتی کے دوران قتل کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا، انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 1999 میں سزائے موت کی سزا سنا دی۔

سزائے موت کی سزا کالعدم کروانے کی مجرم کی اپیلیں 2002 میں خارج ہوئی تھیں، 2004 میں مقتول کے ورثا نے اقبال کو معاف کردیا، تاہم تصفیہ جرم ہونے کی بنا پر اس کی سزا ختم نہیں کی گئی۔

محمد اقبال کی رہائی میں اپنا کردار ادا کرنیوالی تنظیم کا کہنا ہے کہ 1998 میں محمد اقبال صرف 17 برس عمر کے تھے جب انہیں گرفتار کیا گیا اور ایک برس بعد موت کی سزا سنا دی گئی۔ بعدازاں 2001 میں ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے آرڈیننس سے قبل سزائے موت پانے والے قانونی نابالغوں کو معافی دے دی گئی۔تاہم محمد اقبال قانونی طور پر نابالغ ثابت ہوجانے کے باوجود سزائے موت پانے والوں کی قطار میں موجود رہے۔

محمد اقبال کا ڈیتھ وارنٹ 2016 میں آیا، جسے نظر ثانی اپیل دائر ہونے کی وجہ سے عارضی طور پر روک دیا گیا، محمد اقبال کی سزائے موت 2001 کی عدالتی نوٹیفیکیشن کے مطابق نابالغ ہونے کی وجہ سے عمر قید میں تبدیل کر دی گئی تھی، تاہم اسے اس نوٹیفکیشن پر عملدرآمد کروانے میں 19 سال لگ گئے۔

  • If he can commit robbery and murder at age 17 years then why not be hanged for murder when he was guilty?

    17 year olds go to Army and could die in battle.

    I am not sure if the same is true for being in Police at age 17 years.


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >