سوشل میڈیا پر بھیڑیئے کے ہاتھوں بلیک میل ہونے والی باہمت لڑکی کی آپ بیتی

لاہور سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان باہمت لڑکی نے بلیک میلر سے ڈرنے کی بجائے اس کو سب کے سامنے لانے کا فیصلہ کر لیا تو وہ بھیڑیا اس کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکا۔

نوجوان لڑکی نے بتایا کہ جب وہ 16 سال کی تھی اور سوشل میڈیا کا نیا نیا ٹرینڈ چلا تھا تب اس کی اپنے سے 9 سال بڑے لڑکے سے دوستی ہوئی جو اس کی فیس بک آئی ڈی استعمال کرتا اور ان دونوں کے تعلقات کو دوسروں کے سامنے لانے کی دھمکی دیتا تھا۔

بلیک میلنگ سے متاثرہ اس لڑکی کے مطابق شروع کے دنوں میں وہ لڑکا بہت وفادار اور خیال رکھنے والا بنتا تھا مگر جیسے ہی وہ بیچاری اس کے چنگل میں پھنسی اس نے اس پر حکم چلانا شروع کر دیا وہ اس کو کسی سے ملنے نہیں دیتا تھا۔

’اگر آئندہ پاس ورڈ تبدیل کیا تو۔۔۔۔۔‘

’اگر آئندہ پاس ورڈ تبدیل کیا تو۔۔۔۔۔‘آن لائن ہراسانی کا شکار ہونے والی خاتون کی کہانی انہی کی زبانی

Posted by Independent Urdu on Wednesday, July 8, 2020

حتیٰ کہ ملزم اس بچی کو امتحانی سنٹر جانے سے بھی منع کرتا ، ملزم کہا کرتا کہ تم امتحان دینے بھی مت جاؤ کیونکہ وہاں اور لڑکے ہوتے ہیں اور وہ تمہیں دیکھ لیں گے جو کہ مجھے اچھا نہیں لگے گا۔

متاثرہ نوجوان لڑکی کے مطابق وہ اس کی بلیک میلنک سے تنگ آکر اسے اکیلے میں ملی جس کے بعد اس نے تصاویر اور ویڈیوز کا نام لے کر بلیک میل کرنا شروع کر دیا تھا۔

اس باہمت لڑکی نے کہا کہ اگر کوئی اس طرح کی صورتحال کا سامنا کرے تو اس کو سب سے پہلے تو گھبرانا نہیں ہے، اس کے بعد اسے یہ بات اپنے کسی قابل اعتماد گھر کے فرد کسی دوست یا کسی رشتہ دار کو بتانی ہو گی کیونکہ اس سب سے تنگ آکر وہ کئی بار خود کشی کا سوچ چکی تھی۔

اس متاثرہ لڑکی نے بتایا کہ خود کشی کبھی بہتر حل نہیں ہو سکتی۔لڑکی کا کہنا تھا کہ اس نے فیس بک ہیلپ سنٹر کو اپلیکشن اور لیگل ڈاکومنٹس دیکر مدد لی کہ جس کے بعد مجھے میرا فیس بک اکاؤنٹ واپس مل گیا۔ اس نے میرا پیچھا چھوڑدیا اور تین سال غائب ہوگیا لیکن اب وہ دوبارہ میرے پیچھے پڑگیا انسٹاگرام پہ

اس لڑکی نے بتایا کہ ایسے معاملات سے نمٹنے کے لیے حکومت کا بنایا گیا سائبر کرائم سیل بہت مددگار ہے کیونکہ اگر اور کسی سے بات نہ کی جائے صرف ان سے بات کر لیں تو آپ کو کوئی نہ کوئی بہتر حل مل سکتا ہے جس کے بعد آپ کی ہمیشہ سے ایسے بھیڑیوں سے جان چھوٹ جائے گی۔ان بلیک میلرز کو سبق سکھانا بہت ضروری ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >