صدیق جان کا علی سلمان علوی سے کیا تعلق ہے؟گرفتاری کے بعد علی سلمان نے کیا کہا؟

صدیق جان کا علی سلمان علوی سے کیا تعلق ہے؟ کیا صدیق جان علی سلمان علوی کو بچانے کی کوشش کررہے ہیں؟ علی سلمان علوی کے گرفتار ہونے کے بعد صدیق جان کی علی سلمان علوی سے ملاقات ہوئی تو علی سلمان علوی نے کیا بتایا؟ کیا علی سلمان بے گناہ ہیں؟ سنئے صدیق جان سے

اپنے ویڈیو لاگ میں صدیق کا کہنا تھا کہ انکی ملاقات علی سلمان علوی سے 2016 میں ہوئی ، جب وہ 92 نیوز پر کام کرتے تھے اور عاصمہ شیرازی نے 92 نیوز جوائن کیا تھا اور علی سلمان علوی عاصمہ شیرازی کے پروڈیوسر تھے، اسکے بعد میں علی سلمان علوی اور کچھ دن ایک کمرہ کرائے پر لیکر رہنے لگے۔

صدیق جان نے مزید بتایا کہ میری جو ویڈیو شئیر کی جارہی ہے اسکا بیک گراؤنڈ یہ ہےکہ 92 نیوز پر میری تنخواہ 25 ہزار روپے تھے اور ہمارے پاس جلدی پیسے ختم ہوجاتے تھے، ہم نے صبح صبح سپریم کورٹ اور دیگر جگہوں پر جانا ہوتا تھا، ہم علی سلمان علوی کی جیب سے 20، 30 روپے نکال کر لے جاتے تھے۔اس کلپ پر میرے بارے میں کہا گیا کہ میں مافیا کا سرغنہ ہوں اور باقی میرے دوست اسکا حصہ ہیں۔

صدیق جان کا مزید کہنا تھا کہ ایک وقت ایسا آیا جب میری علی سلمان علوی سے بول چال بالکل ہی بند ہوگئی تھی، اسکی وجہ یہ تھی کہ ایک تو علی سلمان علوی نے شادی کرلی تھی اور اس نے دور ایک گھر لیکر رہنا شروع کردیا۔ دوسرا ہماری بہت زیادہ مصروفیت تھی۔ شادی کے بعد میں صرف ایک بار علی سلمان علوی کے گھر گیا، جب اس نے بتایا کہ اسکی ساس بھی سرائیکی ہے اور وہ آپ سے ملنا چاہتی ہے، میری وہی ملاقات ہوئی اسکے بعد کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔

صدیق جان کا کہنا تھا کہ میری علی سلمان علوی سے بول چال بالکل ہی بند ہوگئی، اسکی وجہ یہ تھی کہ علی سلمان علوی نے میرے اوپر ویڈیو کی تھی کہ میں نے 92 نیوز کیوں چھوڑا؟ اس ویڈیو میں میرے 92 نیوز چھوڑنے کی وجہ رؤف کلاسرا کو بتائی گئی، جس پر رؤف کلاسرا ناراض ہوئے اور مجھے فیس بک سے ان فرینڈ اور ٹوئٹر سے انفالو کردیا، رؤف کلاسراکا خیال تھا کہ یہ ویڈیو میں نے کروائی ہے، میں نے علی سلمان علوی سے احتجاج کیا اور کہا کہ ایسا نہیں ہے، رؤف کلاسرا میرے محسن ہیں، میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا ہے، میں نے بھی علی سلمان علوی کو ٹوئٹر پر انفالو کردیا۔

صدف زہرہ کی مبینہ خودکشی پر صدیق جان نے کہا کہ جب مجھے پتہ چلا کہ صدف بہن کی موت ہوگئی ہے اور ایک خودکشی کا نوٹ ملا ہے اور صدف کی فیملی نے علی سلمان علوی پر قتل کا الزام لگایا ہے اور علی سلمان علوی کو گرفتار کرلیا گیا ہے، میں ایک دن تو خاموش رہا کہ مجھے اس معاملے میں پڑنا چاہئے یا نہیں لیکن پھر میں علی سلمان علوی سے ملنے جیل چلا گیا، علی سلمان علوی نے مجھے کہا کہ اس نے صدف کو قتل نہیں کیا، علی سلمان علوی نے یہ بھی کہا کہ اسکی اور صدف کی رات کو لڑائی ہوئی تھی، جس پر اس نے صدف کو مارا اور صدف نے اسے مارا۔

صدیق جان کے مطابق رات کے تین بجے صدف نے علی سلمان علوی سے کہا کہ اسے اسکے گھر چھوڑ آؤ تو علی سلمان علوی نے گاڑی نکالی اور اسے چھوڑنے چلا گیا، انہوں نے گھر کی بیل بجائی لیکن کسی نے دروازہ نہیں کھولا، دوسری طرف صدف کی فیملی کا دعویٰ ہے کہ علی سلمان علوی اور صدف اس رات آئے ہی نہیں، علی سلمان علوی کے مطابق ہم گھر واپس آگئے اور میں اور بیٹی بیڈروم میں چلے گئے جبکہ صدف دوسرے کمرے میں چلی گئیں، صبح 11 بجے کورئیر والا آیا، اسکے بعد کام والی آئی، میں نے اس سے کہا کہ صدف سورہی ہے جب وہ جاگے گی تو تمہیں بلالے گی۔

صدیق جان کے مطابق محلے داروں کا کہنا ہے کہ اس رات علی سلمان علوی باہر گلی میں پھررہا تھا جو غیر معمولی بات تھی، جبکہ علی سلمان علوی کا کہنا تھا کہ میں اس دن گلی میں گیا ہی نہیں، بے شک سی سی ٹی وی فوٹیج نکلوالیں۔ صدیق جان نے مجھے بتایا کہ مجھے دوپہر ایک بجے چینل کی طرف سے کال آئی کہ پروگرام میں کیا ہونا چاہئے، میں نے پروگرام پر ان پٹ دی کہ پروگرام میں کیا کیا ہونا چاہئے۔ ہماری ویڈیو کال ختم ہوئی تو میں نے ہنڈا کے پاس گاڑی لیکر جانی تھی، جب میں جانے لگا تو دروازہ بند تھا، میں نے جیسے ہی دروازہ کھولا تو دیکھا کہ صدف پھندے کے ساتھ لٹکی ہوئی ہے۔اسکے بعد میں نے صدف کی بہن کو فون کیا اور پھر اپنی فیملی کو بھی فون کیا۔

صدیق جان کا کہنا تھا کہ جب یہ سکرین شاٹ سامنے آئے ، رسیدیں سامنے آئے جس میں اس نے باہر سے پیسے لئے، جب فیملی کا موقف آیا کہ علی سلمان علوی صدف کو بہت مارتا تھا تو میرے خلاف پروپیگنڈا شروع ہوگیا اور یہ تک کہا گیا کہ ہم عدالت کو بتائیں کہ اس میں کون کون ملوث ہے، یہ سن کر میں خود عدالت میں چلا گیا کہ میں خود ہی آگیا ہوں، جو بتانا ہے بتائیں۔

صدیق جان نے مزید کہا کہ صدف کی والدہ کا ظفرنقوی نے انٹرویو کیا، جس میں صدف کی والدہ نے کہا کہ علی سلمان علوی بالکل ملوث نہیں ہے لیکن اگر صدف کی فیملی کو لگتا ہے کہ میں بھی اس معاملے میں ملوث ہوں تو میں ہر قسم کی تحقیقات کیلئے حاضر ہوں،میرے بارے میں کچھ لوگوں نے کہا کہ میں اپنا اثرورسوخ استعمال کررہا ہوں، جب یہ چیزیں سامنے آئیں تو میں نے خود کو اس سے دور کرلیا، اب یہ جو چیزیں علی سلمان علوی سے متعلق سامنے آئی ہیں، میں صدف کی فیملی کے ساتھ کھڑا ہوں بلکہ میں تو یہ بھی کہتا ہوں کہ چیف جسٹس اس معاملے کا نوٹس لیں،

صدیق جان نے کہا کہ میں علی سلمان علوی کی بالکل فیور نہیں کررہا اور نہ ہی یہ چاہتا ہوں کہ اسے بچایا جائے۔ اگر وہ قاتل ہے تو اسے سزا ملنی چاہئے کیونکہ قاتل کو بچانے والا بھی قاتل ہے، اگر مقتول کی فیملی بے بس ہوجاتی ہے اور کہتی ہے کہ یااللہ! ہم بے بس ہوگئے ہیں اب تو ہی انصاف کر ، تو پھر اللہ ظالم اور ظالم کا ساتھ دینے والوں کے ساتھ جو کرتا ہے وہ دنیا کی کوئی طاقت نہیں کرسکتی۔ قاتل پاکستانی عدالتوں سے تو بچ سکتا ہے لیکن اللہ کی عدالت سے نہیں بچ سکتا، ویسے بھی مظلوم کی آہ اور اللہ کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ہوتی۔اگر کوئی اس کیس میں ظالم کوبچانے کی کوشش کرتا ہوں تو میں کہتا ہوں کہ اللہ اسے تباہ وبرباد کرے۔

صدیق جان نے مزید بتایا کہ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ صدف نے گھر والوں سے لڑجھگڑ کر شادی کی، ایسی کوئی بات نہیں ہے، یہ ایک ارینج میرج تھی، جس میں دونوں فیملیز انوالو تھیں، یہ بات بھی غلط ہے کہ عدیل وڑائچ، عیسیٰ نقوی، اجمل جامی اس میں انوالو تھے، عیسیٰ نقوی تو علی سلمان علوی کو جانتے تک نہیں تھے، عدیل وڑائچ کا علی سلمان سے کوئی تعلق نہیں اور اجمل جامی کا بھی کوئی خاص تعلق نہیں۔

  • allaha hi behtar janta hay ,,judge sab to haalat aur waqaiat shahid per hi depend kartay hain baz o kat woh jantay bhi kia hua laken case ki presentation kay mutabaq faisala karnay kay paband hotay hain allaha iss kay saheh qatal ko sazay maut day ameen

  • میڈیا کے حرام خور صحافیوں کا ٹولہ اور کچھ اور مافیاز صدیق جان کا نام بدنام کر نے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ صدیق جان کی اس ویڈیو سے صاف ظاہر ہوتا ھے کہ اس کا ان معاملات سے کوئی تعلق نہیں ھے صدیق جان کے حاسد لوگ صدیق جان کی سچ پر مبنی رپورٹنگ حسد کر رھے ھیں کیونکہ نوجوانوں میں صدیق جان اور ان کے تمام یو ٹیورز دوست بہت اچھی اور حقائق پر رپورٹنگ عوام کے سامنے پیش کر رہے ہیں

  • راؤف کلاسرا لیہ کا کلہاڑا  ایک خود غرض خود پسند آنا پرست انسان ھے  تھوڑی بہت ان صحافیوں کو  جب عزت ملتی ھے تو یہ صحافی حضرات آپنی اوقات بھول جاتے ھیں اور اپنے آپ کو پاکستان کا بد قسمتی سے ارسطو سمجھنے لگ جاتے ہیں اور پھر دھڑام سے زمین پر گر جاتے ہیں لیکن پھر بھی ان کی اکڑ گھمنڈ انا پرستی ختم نہیں ہوتی۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >