انگلش لٹریچر سے کاشتکاری تک ۔۔سحر اقبال کی متاثرکن کہانی

ذر نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی۔۔۔ پنجاب کے شہر پاکپتن کی سحر اقبال کیلئے یہ فقرہ بالکل صحیح ہے، انگلش لٹریچر پڑھنے والی یہ با صلاحیت خاتون ایک کامیاب کاشتکار بھی ہیں۔

سحر اقبال پنجاب کے شہر ساہیوال میں پیدا ہوئیں، ابتدائی تعلیم کے بعد لاہور منتقل ہوئیں اور کنیئرڈ کالج سے انگلش لٹریچر میں ماسٹرز کیا، مختلف نجی کمپنیوں میں صحافت، پبلک ریلیشننگ اور کنسلٹنسی کے فرائض سرانجام دیئے۔

سحر اقبال رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کے بعد پاکپتن منتقل ہوگئیں مگر انہوں نے اپنی تعلیم اور پیشہ ور تجربے کو ضائع نہیں ہونے دیا، گھر کی ذمہ داریوں اور بچوں کی پرورش کےساتھ ساتھ سحر ایک کامیاب کارپوریٹ بزنس وومن کا رول بھی بخوبی نبھا رہی ہیں۔

نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شادی کے 2 سال تک میں گھر کے فرائض ہی سرانجام دیتی رہی، چونکہ میرے شوہر ایک ذمیندار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے تو میں نے بھی اس میں دلچسپی لینا شروع کی ۔

شوہر نے میری دلچسپی کو دیکھتے ہوئے مجھے اجازت دی تو میں نے باقاعدہ اس کام میں اپنی صلاحیتوں کو آزمانا شروع کیا، ہم ایک زرعی ملک سے تعلق رکھتے ہیں اگر حکومت اس شعبے پر خصوصی توجہ دے تو ہم اس شعبے میں مزید کامیابیاں حاصل کرسکتے ہیں۔

سحر اقبال نے جدید طرز زراعت کو متعارف کروانے کے ساتھ ساتھ کھیتوں میں کام کرنے والی خواتین کو بھی تربیت دی ، سحر کاشت کاری میں بہتری کی کوشش تو کرتی ہی ہیں بلکہ اپنے پیشہ ور تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے وہ اپنی فصل کی اچھی قیمت میں فروخت کیلئے مارکیٹنگ اور سیلز میں بھی اپنے شوہر کی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>