بیگو،ٹک ٹاک ہم جنس پرستی کو فروغ دے رہی ہیں،پابندی لگائی جائے،شہری کی درخواست

بیگو،ٹک ٹاک ہم جنس پرستی کو فروغ دے رہی ہیں،پابندی لگائی جائے،شہری کی درخواست

لاہور ہائیکورٹ میں ٹک ٹاک سمیت دیگر سوشل میڈیا ایپلی کیشنز پر پابندی کے لیے درخواست دائر

میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور ہائی کورٹ میں ٹک ٹاک سمیت دیگر سوشل میڈیا ایپلی کیشنز پر پابندی عائد کرنے کے لئے درخواست دائر کر دی گئی ہے، جس میں درخواست گزار نے موقف اختیار کیا ہے کہ تمام سوشل میڈیا ایپلی کیشنز کے ذریعے بیہودگی، عریانیت اور غیر اخلاقی حرکات کو فروغ دیا جارہا ہے۔

درخواست گزار نے لاہور ہائی کورٹ میں دائر کردہ اپنی درخواست میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)، بیگو، ٹک ٹاک اور لائیکی کے مالکان سمیت دیگر کو فریق بنایا ہے، اور کہا ہے کہ بیگو، ٹک ٹاک، لائیکی اور دیگر سوشل میڈیا ایپلی کیشنز کے ذریعے نوجوان اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں۔

درخواست گزار کا اپنی درخواست میں کہنا ہے کہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اور ایک اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات اور شعائر کو فروغ دے نا کہ فحاشی، عریانی اور بیہودگی کو۔ بیگو سمیت دیگر سوشل میڈیا ایپلی کیشنز ہم جنس پرستی کو بھی فروغ دے رہی ہیں اور نوجوانوں کو خود غرضی کی طرف مائل کر رہی ہیں۔

لاہور ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں درخواست گزار نے مزید کہا ہے کہ پچھلے دو سال کے دوران ٹک ٹاک کے لیے ویڈیو بناتے ہوئے اب تک متعدد نوجوان اپنی جان گنوا بیٹھے ہیں، ٹک ٹاک سمیت دیگر سوشل میڈیا ایپس پر پابندی کے لیے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی سمیت دیگر محکموں سے رجوع کرچکا ہوں لیکن میری درخواستوں پر کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔

درخواست گزار نے لاہور ہائی کورٹ میں دائر کردہ اپنی درخواست میں استدعا کی ہے کہ بیگو اور ٹک ٹاک سمیت دیگر سوشل میڈیا ایپلی کیشنز پر پابندی عائد کرتے ہوئے ان کی مانیٹرنگ کے لیے قانون سازی کا حکم دیا جائے۔

  • ایسے بھوسڑی کہ جدر سے نکل رئے ہیں اس جگہ ڈکے لگائے جائیں تو شاید ملک کہ حالات اچھے ہو جائیں بی سی تم کیا لینے جاتے ہو ٹِک ٹاک پے

  • درخواست گزار کا اپنی درخواست میں کہنا ہے کہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اور ایک اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات اور شعائر کو فروغ دے

    اسلامی ملک جس میں نوے فی صد جھوٹ بولتے ہیں اور اسی فی صد چور ہیں جہاں کے جج صرف بے گناہ کو سزا دیتے ہیں

    .


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >