نوجوان شاعر آنس معین نے 27 برس کی عمر میں خودکشی کیوں کی؟

اپنے دور میں نوجوان نسل میں مقبول ہونیوالے شاعر آنس معین نے صرف 27 برس کی عمر میں زندگی کا خاتمہ کرلیا۔ آنس معین 29 نومبر1960 کو ملتان میں پیدا ہوئے۔ اُن کا تعلق ایک مذہبی گھرانے سے تھا جس کی وجہ سے اُن کا رحجان صوفی ازم کی طرف زیادہ تھا۔ ان کے والد کا نام فخرالدین بلے تھا۔

آنس معین نے 17 برس کی عمر میں شاعری شروع کی۔ نوجوان نسل میں مقبول ہوئے ، اس وقت کے مختلف نامور شعراء انکی شاعری کے معترف رہے۔جوش ملیح آبادی نے انہیں کمسن سقراط اور فیض احمد فیض نے زیرک دانشورقراردیا۔احمد ندیم قاسمی نے کہا میں رشک کرتا ہوں کہ آنس معین جیسے شعر کہہ سکوں۔

آنس معین نے 27 برس کی عمر 4 فروری 1986 میں ایک ٹرین کے نیچے آکر خودکشی کرلی۔ اس وقت انکی خودکشی سے متعلق مختلف قیاس آارائیاں کی جاتی تھیں۔

ایک قیاس آرائی یہ کی گئی کہ اُن کے ایک صوفی دوست نے کہا، موت کے بعد زندگی اتنی خوبصورت ہے کہ اگر لوگوں کو پتہ چل جائے تو دنیا کی آدھی آبادی خودکشی کر لے۔

ایک خبر جو اس وقت اخبارات میں زیرگردش تھی وہ یہ کہ وہ ایک بنک میں ملازمت کرتے تھے، بنک میں ایک فراڈ ہوا اور انچارج کے طور پر وہ خود کو اس کا ذمہ دار سمجھ رہے تھے اور وہ مختلف سوالات کی زد میں تھی۔ انہوں نے 5 فروری 1985 کو ملتان میں ٹرین کے نیچے آ کر خودکشی کر لی۔

لیکن انکی خودکشی کے بعد انکا آخری خط منظرعام پر آیا۔ جو انہوں نے اپنی والدہ کے نام لکھا تھا اور آج بھی ریکارڈ کا حصہ ہے اس خط میں انہوں نے بتایا کہ وہ کوئی پریشان یا کسی سے تنگ نہیں مگر زندگی کے ایک ہی طرح کے طرز عمل سے اکتا گئے ہیں۔

آنس معین اپنے خط میں لکھتے ہیں کہ

زندگی سے پیاری عزیز امی

اور پیارے ابو جان

خدا آپکو ہمیشہ سلامت رکھے۔

میری اس حرکت کی سوائے اس کے اور کوئی وجہ نہیں کہ میں زندگی کی یکسانیت سے اکتا گیا ہوں۔ کتاب زیست کا جو صفحہ الٹتا ہوں اس پر وہی تحریر نظر آتی ہے جو پچھلے صفحے پر پڑھ چکا ہوتا ہوں۔ اس لیے میں نے ڈھیر سارے اوراق چھوڑ کر وہ تحریر پڑھنے کا فیصلہ کیا ہے جو آخری صفحے پر لکھی ہوئی ہے۔

مجھے نہ تو گھر والوں سے کوئی شکایت ہے نہ دفتر یا باہر والوں سے، بلکہ لوگوں نے تو مجھ سے اتنی محبت کی ہے کہ میں اس کا مستحق بھی نہیں تھا۔

لوگوں نے میرے ساتھ اگر کوئی زیادتی کی بھی ہے یا کسی نے میرا کچھ دینا ہے تو میں وہ معاف کرتا ہوں۔ خدا میری بھی زیادتیوں اور گناہوں کو معاف فرمائے۔

اور آخر میں ایک خاص بات وہ یہ کہ وقتِ آخر میرے پاس راہِ خدا میں دینے کو کچھ نہیں ہے سو میں اپنی آنکھیں "آئی بینک” کو عطیہ کرتا ہوں۔ میرے بعد یہ آنکھیں کسی مستحق شخص کے لگا دی جائیں تو میری روح کو حقیقی سکون حاصل ہونے کی امید ہے۔

مرنے کے بعد مجھے آپ کی دعاؤں کی پہلے سے زیادہ ضرورت رہے گی۔ البتہ غیر ضروری رسومات پر پیسہ خرچ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

میں نے کچھ روپے آمنہ کے پاس اسی لیے رکھوا دیے ہیں کہ اس موقع پر کام آ سکیں۔

آپ کا نالائق بیٹا

آنس معین

اسلام خان بلڈنگ

  • ایک احمق شاعر کی موت کا قصہ
    احمق اس لئے کہ
    اس نے آخری خط میں اپنی ماں کوجان سے پیاری لکھا ہے
    جس بوقوف کو اپنی جان پیاری نہیں تھی اوراس نے خود کشی کر لی وہ اپنی ماں کو جان سے پیاری لکھ رہا ہے
    اس کو لکھنا چاہیے تھا موت سے پیاری امی جان
    اور اگر اس کو اپنی ماں سے پیار ہوتا تو ماں کوایسا خنجر نہ گھوپتا کہ جس سے اس کو ہمشہ کے لئے تکلیف ہوئی ہوگئی
    کیا جوان بچے کی خود کشی ماں کے لئے خنجر کی تکلیف کی ترہان نہی ہوگی ؟
    اور اگر مرنا ہی تھا تو اپنے آپ کوہ پھانسی دے دیتا ، اس ٹرین ڈرائیور کہ کیا قصور تھا ، اس بچارے کی زندگی بھی تبھہ ہوگئی ہوگئی


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >