خواجہ سراؤں سے شادی کا بیان دیکر مفتی عبدالقوی مشکل میں پھنس گئے

مفتی عبدالقوی کا خواجہ سراؤں کو شادی کا مشورہ، لاہور کی عدالت میں مقدمے کیلئے درخواست دائر

مفتی عبدالقوی جو آئے روز کسی نہ کسی نئی بات کی وجہ سے تنقید اور خبروں کی زد میں رہتے ہیں انہوں نے اب ایک ٹی وی چینل میں کہا کہ خواجہ سرا بھی شادی کر سکتے ہیں۔

مفتی قوی کے اس بیان کے بعد وہ نئے مسئلے کا شکار ہو گئے ہیں کہ اب لاہور کی مقامی عدالت میں ان کے خلاف مقدمے کی درخواست دائر کی گئی ہے۔ درخواست حافظ مشتاق احمد نعیمی ایڈووکیٹ نے دی جس میں موقف اپنایا گیا ہے کہ مفتی عبدالقوی کا بیان ایک غیر فطری عمل کے لیے اکسانے کے مترادف اور خلاف مذہب ہے۔

درخواستگزار نے دلائل میں کہا کہ شادی کا مقصد اولاد پیدا کرنا ہوتا ہے، شادی عیاشی کیلئے نہیں کی جاتی۔ مفتی قوی کا بیان گناہ اور بے راہ روی کا راستہ کھولنے جیسا ہے۔ خواجہ سرا میں اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی لہٰذا مفتی قوی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے۔

عدالت نے 14 اپریل تک پولیس سے جواب طلب کر لیا۔ جبکہ دوسری جانب ایک اور ٹی وی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے مفتی قوی نے کہا کہ یہ بات خود سے نہیں کی بلکہ ہمارے علما نے اپنی کتابوں میں لکھ رکھا ہے اور ان کتب کا حوالہ بھی دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ یہ بات ان کے لیے کہی تھی جو خواجہ سرا کہے کہ میرے اندر مرد ہونے کی خوبی بھی موجود ہے یا ایسا خواجہ سرا جو اس بات کا دعویٰ کرے کہ میرے میں خاتون ہونے کی صفات ہیں اس کو شادی کرنی چاہیے۔

  • What a stupid logic, marraige is only to produce kids. So, it means all infertile women should be divorced. All women above 45 should be divorced. The person who went to court, rather should have been sent to mental hospital for treatment.


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >