برطانوی جیل میں قید پاکستانی آصف حفیظ کو امریکہ نے کیوں گرفتار کروایا؟

امریکا کو مطلوب سونے کے کاروبار سے منسلک پاکستانی شہری آصف حفیظ ایک برطانوی جیل قید ہے، آصف حفیظ امریکا، برطانیہ، پاکستان اور یو اے ای کے ڈرگ حکام کیلئے انفارمر رہ چکے ہیں۔آصف حفیظ انسدادمنشیات کے پاکستانی ادارے اے این ایف کیلئے بھی جاسوسی کا کام کرچک ہیں جبکہ برطانیہ اور یواے ای حکام بھی آصف حفیظ کی خدمات کی تعریف کرتے ہیں۔

جیو نیوز کے صحافی مرتضیٰ علی شاہ کے مطابقب برطانوی جیل بیل مارش میں قید پاکستانی شہری آصف حفیظ کا کہنا ہے کہ انہیں ایک بھارتی شہری نے پھنسایا ہے۔ آصف حفیظ نے عدالت سے درخواست کی کہ انہیں امریکا کے حوالے نہ کیا جائے کیونکہ اسے وہاں سزائے موت دی جاسکتی ہے۔

مرتضیٰ علی شاہ کے مطابق امریکا کو منشیات اسمگلنگ میں مطلوب پاکستانی شہری آصف حفیظ امریکا ، برطانیہ ، پاکستان ، اور متحدہ عرب امارات کے ڈرگ حکام کے لیے انفارمر کے طور پر کام کرچکا ہے جب کہ اس نے اقوام متحدہ کو بھی خفیہ معلومات فراہم کیں اور طویل عرصے تک ان ایجنسیوں کے لئے کام کیا۔

دستاویزات سے انکشاف ہوا کہ بروقت جاسوسی اور منشیات کی بڑی تعداد میں سمگلنگ روکنے پر انہیں برطانوی حکومت کی طرف سے تعریف کے 4 خطوط موصول ہوئے ۔آصف حفیظ کی نہ صرف برطانیہ بلکہ پاکستان کی انسداد منشیات ایجنسی اے این ایف اور یواے ای حکام نے بھی انکی تعریف کی ہے۔

نجی ٹی وی چینل کو ملنے والی دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ آصف حفیظ کے وکی گوسوامی نامی شخص سے بھی قریبی روابط ہیں۔ جو بھارتی اداکارہ ممتاکلکرنی کے شوہر ہیں۔وکی گوسوامی احمد آباد کے سابقہ شراب ساز ہیں جو بعدازاں ڈرگ ڈیلر بن گیا ، اور کینیا کی آکاشا تنظیم کے ممبرشامل ہیں

یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ڈی ای اے اور سی آئی اے کے امریکی جاسوسوں نے دبئی اور لندن میں کم از کم نو مختلف مواقع پر آصف حفیظ سے ملاقات کی اور ایک موقع پر اس سے کہا کہ وہ دیگر ایجنسیوں سے روابط توڑ دیں اور صرف ان کے لئے کام کریں۔ امریکی ایجنٹوں کی یہ پیش کش حفیظ نے مستردکردی۔جس کے بعد امریکی ایجنسییوں نے مختلف خفیہ آپریشنز اور سٹنگ آپریشنز کے ذریعے آصف حفیظ کو گرفتار کرنے کی کوششیں شروع کردیں لیکن آصف حفیظ بچ نکلے۔

ایک امریکی ایجنٹ کے ذریعہ آخری اسٹنگ آپریشن 2017 کے ابتدائی موسم گرما میں لندن میں ناکام ہونے کے بعد ، امریکی حکومت نے برطانیہ کی حکومت سے 25 اگست 2017 کو آصف حفیظ کو اس وقت گرفتار کرنے کی درخواست کی جب وہ تعطیلات پر اپنے اہل خانہ کے ساتھ لندن میں مقیم تھے۔

اگرچہ آصف حفیظ کو برطانیہ میں گرفتار کرلیا گیا لیکن برطانیہ کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں پاکستانی شہری پر کوئی کیس نہیں ہے۔ جب کہ امریکا نے حفیظ پر ہیروئن درآمد کا الزام عائد کیا ہے جو وہ بھارتی شہری وکی گوسوامی اور کینیا کے آکاش برادران اور غلام حسین کے ساتھ کرتا تھا۔

آصف حفیظ نے ای سی ایچ آر سے اپیل کی ہے کہ اسے امریکا کے حوالے نہ کیا جائے کیونکہ اسے وہاں سزائے موت ہوسکتی ہے۔ اس نے اپنے اوپر عائد تمام الزامات کو مسترد کیا ہے اور اسکا دعویٰ ہے کہ اسے بھارتی گوسوامی نے پھنسایا ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >