لاہور :پالتو شیر کو غیر قانونی طور پررکھنے اور تصاویر شیئر کرنا شہری کو مہنگا پڑ گیا

لاہور کے علاقے سگیاں سے تعلق رکھنے والے سید امداد حسین شاہ اپنے فارم ہاؤس پر افریقی شیر کو بطور پالتو جانور رکھے ہوئے ہیں۔ وہ اس کے ساتھ اکثر اپنی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرتے رہتے ہیں اور ان میں ان کے دوست احباب بھی موجود ہوتے ہیں جو شیر کے پنجرے کے اندر بیٹھے نظر آتے ہیں۔

امداد حسین کی شیئر کی گئی تصاویر اور ویڈیوز میں دیکھا گیا ہے کہ کبھی تو وہ اپنے شیئر کو نہلا رہے ہیں اور کبھی اسے پانی پلا تے یا کچھ اور کھلاتے نظر آتے ہیں۔

اب لاہور میں جنگلی حیات کے تحفظ کیلئے کام کرنے والی ایک این جی او وائلڈلائف کنزرویٹو نے محکمہ جنگلی حیات کو شکایت کی ہے کہ شہری خطرناک جنگلی جانور کو رکھے ہوئے ہے۔ اس شیر کے ساتھ سوشل میڈیا پر جاری کردہ تصاویر کا حوالہ دیتے ہوئے این جی او نے اسے ظالمانہ اور خطرناک عمل قرار دیا ہے۔

تاہم محکمہ جنگلی حیات کے ضلعی افسر تنویر احمد جنجوعہ کے مطابق شیر ایک خطرناک جنگلی جانور ہے جسے رہائشی علاقے میں نہیں رکھا جا سکتا، انہوں نے کہا کہ اسے صرف بریڈنگ فارمز پر رکھنے کی اجازت ہے مگر چونکہ شہری نے اسے رہائشی علاقے میں پال رکھا ہے اس لیے صوبائی محکمہ جنگلی حیات امداد حسین کو نوٹس کے ذریعے غیر قانونی طور پر جنگلی جانور رکھنے سے روکے گا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی امداد حسین کو جلسے جلوسوں میں اپنے شیر کی نمائش کرنے پر بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >