سات بچوں کی پیدائش: افغان جوڑا پاکستانی شہریت کیلئے عدالت پہنچ گیا

گزشتہ 20 سالوں سے کراچی میں رہنے والے افغان جوڑے نے پاکستانی شہریت حاصل کرنے کے لیے سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی۔

افغان جوڑے نے درخواست میں مؤقف اپنایا ہے کہ پاکستان میں رہتے ان 20 سالوں کے دوران ان کے 7 بچے ہو گئے ہیں جن کو اب تعلیم کیلئے کہیں داخلہ نہیں مل رہا اس لیے انہیں پاکستانی شہریت دی جائے۔

درخواستگزار افغان پناہ گزین نے مزید لکھا کہ اس کا شناختی کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے بچے تعلیم سے محروم ہیں، عدالت حکم جاری کرے کہ اس کے خاندان کو شناختی کارڈ دیئے جائیں تاکہ بچوں کی تعلیم کی راہ میں حائل یہ رکاوٹ دور ہو وہ اپنے بچوں کو تعلیم دلانا چاہتا ہے۔

درخواستگزار نے یہ بھی بتایا کہ اس نے شہریت کے معاملے پر وزارت داخلہ کو خط لکھا ہے مگر وزارت کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

سندھ ہائیکورٹ کے 2 رکنی بینچ نے ریمارکس میں افغان باشندے کو وزارت داخلہ ہی سے دوبارہ رجوع کرنے کی ہدایت کی۔ عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ شہریت کس کو دینی ہے یا کس کو نہیں دینی یہ وزارت داخلہ کا ہی معاملہ ہے۔ عدالت نے وزارت داخلہ کو ہدایت جاری کی کہ درخواستگزار کی درخواست پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

یاد رہے کہ حکومت پاکستان افغان شہریوں کی سرگرمیوں پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتی آئی ہے، دہشت گردی کے خلاف قومی ایکشن پلان کے20 نکات میں ایک نکتہ افغان پناہ گزینوں کے بارے میں پالیسی واضح کرنا اور انہیں وطن واپس بھیجنے کے بارے میں بھی تھا۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 14 لاکھ رجسٹرڈ اور 7 لاکھ غیررجسٹرڈ افغان پناہ گزین ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے اپنی حکومت کے پہلے سال 2018 میں کراچی میں کہا تھا کہ ان کی حکومت افغان اور بنگلہ دیشی پناہ گزینوں کو پاکستانی شہریت دینے سے متعلق غور کر رہی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو یہاں رہتے ہیں۔

عمران خان نے یہ بھی کہا تھا کہ بنگلہ دیش سے ڈھائی لاکھ لوگ ہیں، افغانستان کے لوگ بھی یہاں رہتے ہیں۔ ان کے بچے بھی یہاں بڑے ہوئے ہیں، ان کو پاسپورٹ اور شناختی کارڈ نہیں ملتے۔ یہ دو چیزیں نہ ہوں تو نوکریاں نہیں ملتیں۔ جو ملتی بھی ہیں، وہ آدھی اجرت پر۔

واضح رہے کہ 1980 میں افغانستان پر روس کے حملے کے بعد آبادی کی ایک بڑی تعداد کو پاکستان نے پناہ دی تھی۔ پاکستان میں نادرا کی گائیڈ لائنز میں بنگلہ دیش سے آنے والے لوگوں کا طریقہ کار موجود ہے تاہم برمی مسلمان اور افغان شہریوں کے لیے شہریت کا کوئی طریقہ کار نہیں دیا گیا۔

  • وہ بچوں کی تعلیم کیلئے شہریت چاہتے ہیں میرے خیال میں انہیں شہریت کے علاوہ بچوں کی تعلیم کے اخراجات اور گھر بھی مہیا کیا جاے یہی اسلامی نظام اور مدینہ کی ریاست کا طریقہ تھا


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >