ٹرین حادثے کا المناک واقعہ کیسے پیش آیا؟سرسید ایکسپریس کے ڈرائیور نے بتا دیا

گھوٹکی اسٹیشن پر ملت ایکسپریس کی بوگیاں پٹڑی سے اتر کر ڈاؤن ٹریک پر جاگریں، جس کے نتیجے میں مخالف سمت سے آنے والی سرسید ایکسپریس ان سے ٹکراگئی، اس دل دہلا دینے والے حادثے میں جاں بحق افراد کی تعداد 35 تک پہنچ گئی ہے۔

اس حوالے سے سرسید ایکسپریس کے انجن ڈرائیور نے بتایا ہے کہ ریتی اسٹیشن سے نکلنے کے بعد ٹرین مقررہ اسپیڈ پر تھی کہ اچانک ملت ایکسپریس کی پٹڑی سے اتری ہوئی بوگیاں نظر آئیں، فاصلہ کم ہونے پر ٹرین ملت ایکسپریس کی ڈی ریل بوگیوں سے ٹکراگئی۔

ڈرائیور سرسید ایکسپریس اعجاز شاہ نے بتایا کہ حادثے کے بعد دو گھنٹے تک وہ انجن میں پھنسے رہے اور مقامی افراد نے دو گھنٹے بعد انہیں ریسکیو کیا۔

اس سے قبل ملت ایکسپریس کے ایک زخمی مسافر نے بتایا تھا کہ ٹرین کی بوگی نمبر10 کا کلمپ ٹوٹا ہوا تھا ، کلمپ کی مرمت کے بجائے عارضی حل کیا گیا، جس کی وجہ سے بوگی الٹ گئی۔

دوسری جانب ترجمان ریلوے نے کہا تھا کہ ملت ایکسپریس کی بوگیاں پٹڑی سےاتر کر ڈاؤن ٹریک پر جا گریں، گرنے والی بوگیوں سے راولپنڈی سے آنے والی سرسید ایکسپریس سے ٹکرائی، ریلوے مقامی پولیس کے ساتھ انتظامیہ ریلیف کے لیے موقع پر موجود ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ٹرین حادثہ ریتی اورڈھرکی کےدرمیان پیش آیا، زخمیوں کو روہڑی، پنوعاقل اور سول اسپتال سکھر منتقل کیا گیا، زیادہ تر زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کردیا گیا تاہم ٹریک بحال ہوتے ہی ٹرینوں کوروانہ کردیا جائے گا۔

  • جب ٹرین کی بوگیاں گر گئ تھی تو انتظامیہ کہاں تھی جو دوسری آنے والی ٹرین کو اطلاع کرتی کہ آگے ٹرین الٹ گئ ہے آہستہ سپیڈ سے آؤ یا رک جاؤ۔۔۔
    یہ سب انتظامیہ کی نا اہلی کا نتیجہ
    ہے۔۔۔
    ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے۔۔۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >