خدیجہ صدیقی کو چھریاں مارکر زخمی کرنیوالا شاہ حسین جیل سے رہا

ایل ایل بی کی طالبہ خدیجہ صدیقی کو چھریاں مار کر زخمی کرنے والے اس کے کلاس فیلو شاہ حسین کو سزا مکمل ہونے پر کوٹ لکھپت کی جیل سے رہا کردیا گیا۔

شاہ حسین نے 3 مئی 2016ء کو خدیجہ صدیقی پر چھریوں کے 23 وار کئے تھے، عدالت نے جرم ثابت ہونے پر اسے 5سال قید کی سزا سنائی تھی۔

ملزم شاہ حسین پیپلزپارٹی کے سرگرم رہنما اور ایڈووکیٹ تنویر ہاشمی کا بیٹا ہے جس کے خلاف اقدام قتل کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

شاہ حسین کے خلاف کلاس فیلو خدیجہ صدیقی پر 3 مئی 2016ء کو حملے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا۔

ایف آئی آر کے مطابق خدیجہ اپنی چھوٹی بہن کو شملہ پہاڑی کے قریب اسکول سے لینے گئی، ڈیوس روڈ پر شاہ حسین نے اس پر چھریوں سے حملہ کر دیا اور 23 وار کرکے اسے شدید زخمی کر دیا۔

تحقیقات مکمل ہونے پر شاہ حسین کو جوڈیشل مجسٹریٹ نے 29 جولائی2017ء کو 7 سال قید کی سزا سنا دی۔بعدازاں شاہ حسین کے اہلخانہ نے اپیل کی تو عدالت نے سزا 2 سال کم کرکے 5 سال کردی لیکن جون 2018ء میں لاہور ہائی کورٹ نے سزا ختم کر کے شاہ حسین کو بری کر دیا

جس پر سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثار نے شاہ حسین کی رہائی کا نوٹس لے لیا، بعدازاں جنوری2019ء میں سابق چیف جسٹس آصف کھوسہ کی سربراہی میں بنائے گئے بنچ نے لاہور ہائیکورٹ کا بریت کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے شاہ حسین کی 5 سال قید کی سزا بحال کردی۔

  • 23 waar, full attempt to murder, and the culprit is freed after 5 years.
    He should have got 23 years atleast.

    The nation is heading to destruction,
    the nations who have different rules for powerful and weak are bound to destruction – as told by Prophet peace be upon him.

    A big Lanat on Lahore high court and Supreme court.


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >