نور مقدم کیس میں پیش رفت، ملزم ظاہر جعفر کا اعتراف جرم

اسلام آباد میں قتل ہونے والی نور مقدم کیس میں اہم پیشرفت سامنے آگئی،ملزم ظاہر جعفر نے قتل کا اعتراف کرلیا،ذرائع کے مطابق نور نے بھاگ کر جان بچانے کی کوشش کی اور گارڈ کے کیبن میں خود کو بند کرلیا،لیکن ملزم نے گارڈ کو دھکیل کر نور کو کیبن سے نکالا اور گھسیٹ کر اپنے کمرے میں لے گیا،جہاں اسے تشدد کرکے قتل کردیا۔

پولیس نے نور پر تشدد کے ویڈیو شواہد بھی حاصل کر لیے ہیں،جس کے مطابق نور مقدم ساڑھے 4بجے بالکنی سے بھاگ کر گارڈ کے پاس آئی،نور نے اپنے آپ کو سیکیورٹی گارڈ کے کیبن میں بند کر لیا۔

ملزم ظاہر جعفر پیچھے آیا اور کیبن سے نور کو باہر نکالا،گلی میں موجود گارڈ یہ سب کچھ دیکھتے رہے،کسی بھی گارڈ نے ظاہر جعفر کو تشدد کرنے سے نہ روکا، گلی میں اور بھی لوگ موجود تھے، جنھوں نے نور کو گھسٹتے ہوئے دیکھا۔

ویڈیو شواہد کے مطابق ظاہر نور کو دوبارہ لے کر گیا تشدد کیا اور قتل کردیا،تشدد کا عمل تین گھنٹے تک جاری رہا،دوسری جانب نورمقدم نے اپنے ڈرائیورسے 7لاکھ روپے لیکرملزم ظاہرجعفر کے گھر لانے کو کہا،رقم دینے کا تاحال کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا،پولیس آفیسر کے مطابق رقم مقتولہ کے اکاؤنٹ ،گھر سے ،یا کہیں اور کسی عزیزسے منگوائی گئی اس بات کی بھی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

اسٹیٹ پراسیکیوٹر ساجد چیمہ نے نے عدالت کو بتایا کہ ملزم ظاہر جعفر سے پستول ریکور کرلیا گیا،موبائل ریکور کرنا ہے، کیس میں مزید ملزمان کی گرفتاری کے بعد نئی دفعات شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

ملزم کے وکیل انصر نواز مرزا نے مزید جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کی، عدالت نے ملزم ظاہر جعفر کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظورکرتے ہوئے پولیس کو ملزم سے تفتیش کرکے 28 جولائی کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کردی۔

سماعت کے بعد عدالت سے ملزم کو جب پولیس واپس لے جا رہی تھی تو ملزم نے کہا میری جان کو خطرہ ہے۔

دوسری جانب وفاقی حکومت نے ملزم ظاہر جعفر کا نام بلیک لسٹ میں ڈال دیا،وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ تمام ملزمان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر ڈال رہے ہیں، ملزم کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کیلئے سمری کابینہ کو اسی ہفتے بھیجیں گے،کسی کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کی جائے گی۔

وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ ریاست مظلوموں کے ساتھ کھڑی ہے، نظام عدل میں تبدیلی کی ضرورت ہے، نورمقدم ہماری بچی ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >