نورمقدم کے قاتل کی والدہ پریشانی کے عالم میں کس کس کو فون کرتی رہیں؟

نورمقدم کے قاتل ظاہر جعفر اور اس کی ماں عصمت ذاکر جعفر کے مابین اس روز کئی بار رابطہ ہوا اور وہ اسلام آباد میں اپنے گھر میں ہونے والی کارروائی سے بخوبی آگہ تھیں۔ ماں بیٹے میں متعدد بار رابطہ ہوا۔ جب کہ ماں نے بیٹے کو بچانے کیلئے کئی لوگوں سے رابطہ کیا اور گھر کی سیکیورٹی کیلئے نجی کمپنی سے بھی رابطہ کیا۔

نجی خبر رساں ادارے کے مطابق عصمت جعفر 20 جولائی 2021 سے 22 جولائی تک 32 گھنٹے سیکڑوں افراد سے رابطے میں رہیں۔ ظاہر جعفر کی والدہ نے بتایا کہ وہ 20 جولائی2021 کی صبح ملنے والے میسجز سے 32 گھنٹوں تک خوف، پریشانی اور ڈپریشن میں مبتلا رہیں۔

انہوں نے متعدد افراد کو سیکڑوں فون کالز کیں جن میں بااثر افراد، سیکورٹی کمپنیاں، کیپٹل پولیس، ویلفیئر ٹرسٹ، چار نجی کمپنیاں، اپنے قریبی رشتہ دار اور ان کا اپنا قاتل بیٹا شامل تھا۔ تحقیقات کے مطابق عصمت جعفر کو 20 جولائی کی آدھی رات میسجز اور کالز موصول ہونا شروع ہوگئی تھیں۔

یہ وہی وقت تھا جب جعفر ہاؤس اسلام آباد میں اس قتل کے وجوہات پنپنا شروع ہوئی تھیں اور بدقسمت لڑکی کے والد سابق سفیر شوکت علی مقدم اور ان کی والدہ ان سے رابطے کی کوششیں کررہے تھے۔ تفتیشی افسران اور حساس اداروں کا ماننا ہے کہ عصمت جعفر کو بخوبی علم تھا کہ ان کے اسلام آباد گھر میں کیا ہورہا ہے، جہاں قاتل ظاہر ذاکر جعفر اور مقتولہ نور مقدم 18 جولائی سے 20 جولائی تک موجود تھے۔

جبکہ عصمت جعفر کے ڈی اے اسکیم کراچی، لیاقت نیشنل اسپتال، بہار مسلم کوآپریٹیو ہائوسنگ سوسائٹی، جمال الدین افغانی روڈ میں گھومتی رہیں۔ انہوں نے اپنے شوہر ذاکر جعفر سے 1:43 پر 20 جولائی، 2021 کو بات کی۔ اس کے بعد وہ الہلال کوآپریٹیو ہائوسنگ سوسائٹی، کے ڈی اے، اسکیم نمبر 7، کراچی پہنچیں اور پھر 2:15 پر اپنے شوہر سے بات کی ، جس کے بعد اپنے بیٹے ظاہر جعفر سے 2:21 پر رابطہ کیا۔

انہوں نے اپنے بیٹے سے 23 منٹ طویل بات کی۔ جس کے بعد انہوں نے اپنے بیٹے کو 2:56 پر میسج بھیجا۔ عصمت جعفر نے اپنے شوہر کو 3:49 پر کال کی اور ان سے چار منٹ بات کی۔ جس کے بعد وہ واپس افغانی روڈ کراچی آگئیں اور 28 منٹ بعد قاتل نے انہیں 4:17 پر کال کی۔ جس کے بعد وہ 6:35 سے 6:42 تک اپنی والدہ سے تین بار رابطے میں رہا۔

اس کے بعد انہوں نے ظاہر کو فون کیا مگر اس نے کال کاٹ دی، جس کے بعد انہوں نے دوبارہ اپنے بیٹے کو کال کی اور ڈیڑھ منٹ تک بات کی۔ اس دوران وہ متعدد مقامات پر جاتی رہیں اور کئی افراد سے رابطے کرتی رہیں۔ جعفر ہاؤس اسلام آباد میں وہ اہم وقت تھا جب عصمت نے فیونکس سیکورٹی سروسز پرائیویٹ لمیٹڈ سے 7:09 پر رابطہ کیا اور ان سے سیکورٹی طلب کی۔

اس کے بعد انہوں نے 7:51 منٹ پر پھر فیونکس کمپنی کو کال کی اور سیکورٹی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے راولپنڈی کے ایک کاروباری شخص سے بھی دو درجن بار پورے دن میں فون پر بات کی۔ نورمقدم کے مبینہ قاتل نے آخری بار 7:30 منٹ پر اپنی والدہ سے بات کی تھی اور پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے انہیں نورمقدم کی موت سے آگاہ کردیا تھا۔

اس کے بعد عصمت نے پرائیویٹ انفارمیشن سیکورٹی سسٹم کے سربراہ سے متعدد مرتبہ بات کی۔ اس کے بعد عصمت نے 10:35 پر اسلام آباد پولیس ہیڈکوارٹر رابطہ کیا اور پانچ منٹ تک ان سے بات کی۔

واضح رہے کہ آج نور مقدم قتل کیس میں اسلام آباد کی مقامی عدالت نے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والدین کی درخواست ضمانت مسترد کر دی ہے،ظاہرجعفر کے والدین پر نور مقدم قتل کیس میں اعانت جرم کا الزام ہے۔

ایڈیشنل سیشن جج شیخ محمد سہیل نے وکلا کے دلائل سننے کے بعد ملزم کے والدین کی درخواست ضمانت پر گزشتہ روز فیصلہ محفوظ کیاتھا،جسے آج سنادیا گیا ہے،فیصلے کے تحت عدالت نے ظاہر جعفر کے والد اور والدہ کی ضمانت کی درخواستیں خارج کردیں ہیں،ظاہر جعفر کے والدین پر نور مقدم قتل کیس میں اعانت جرم کا الزام ہے۔

پراسیکیوٹر نسیم ضیا نے کہا کہ ملزم کی والدین کے ساتھ بات ہورہی تھی لیکن انہوں نے پولیس کو آگاہ نہیں کیا، جب نوکر نے فون کیا تو اس وقت وہاں واقعہ ہو رہا تھا اور انہوں نے پولیس کے بجائے تھراپی ورک والوں کو بھیجا،ملزم سےجو پستول برآمد ہوئی وہ ملزم کے والد نام پر رجسٹرڈ ہے،جبکہ سرکاری وکیل نے بتایا کہ کال، سی ڈی آر، ڈی وی آر، سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے، انہوں نے بد دیانتی کی بنیاد پر اپنے بچے کو بچانے کی کوشش کی۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>