عائشہ اکرم کے شناخت پریڈ سے انکار کے بعد گرفتار افراد کا معاملہ لٹک گیا

گزشتہ روز مینار پاکستان واقعہ میں ہراسانی کی شکار خاتون ٹک ٹاکر عائشہ اکرم نے شناخت پریڈ کیلئے جیل جانے سے انکار کردیا تھا ۔

خاتون ٹک ٹاکر عائشہ اکرم کا کہنا تھا کہ طبعیت ناسازی کی وجہ سے جیل شناختی پریڈ کے لیے نہیں آسکتی۔ خاتون ٹک ٹاکر کی غیر حاضری کے باعث شناخت پریڈ کے لیے آئے جوڈیشل مجسٹریٹ کیمپ جیل سے واپس روانہ ہوگئے۔

چودہ اگست کو مینار پاکستان پر ہراسانی کا واقعہ پیش آنے کے بعد لاہور پولیس نے تفتیش کے دوران 144 کے قریب افراد کو حراست میں لیا تھا جن کی کل شناخت پریڈ تھی ۔

آخر عائشہ اکرم نے کیوں شناخت پریڈ سے انکار کیا؟ نجی چینل کے رپورٹر شاہد ثقلین نے پردہ اٹھادیا۔

شاہد ثقلین کے مطابق عائشہ اکرم کی ملزمان کی شناخت کیلئے جیل انتظامیہ نے انتظامات مکمل کئے، ملزمان کے 20، 20 کے گروپس بنادئیے گئے جنہیں باری باری شناخت پریڈ کیلئے عائشہ اکرم کے سامنے لیکر آنا تھا۔

صحافی کے مطابق جوڈیشل مجسٹریٹ ساڑھے 8 بجے جیل آئے اور حاضری لگوائی، جج صاحب پونے11 بجے تک عائشہ اکرم کا انتظار کرتے رہے لیکن نہ عائشہ اکرم آئیں اور نہ انکے وکیل آئے اور یہ معاملہ رکا رہا۔ بعد میں عائشہ اکرم کو کال کی گئی تو جواب ملا کہ عائشہ اکرم کی طبعیت ناساز ہے اسلئے وہ آج نہیں آسکتیں۔

شاہد ثقلین کا کہنا تھا کہ اگر عائشہ اکرم شناخت پریڈ کردیتی ، ایسے لوگ جو وقوعہ کے وقت موجود تھے انہیں الگ سیل میں رکھا جاتا ، جو وہاں موجود نہیں تھے انہیں علیحدہ کیا جاتا، جنہیں عائشہ اکرم پہچان لیتی کہ یہ وہاں موجود تھے، ان سے تفتیش کی جاتی، جسمانی ریمانڈ لیا جاتا۔

صحافی کا کہنا تھا کہ 144 لوگوں کو پہلے گرفتار کیا گیا، 11 ایسے تھے جنہیں گزشتہ روز گرفتار کیا گیا، عائشہ اکرم نے 400 افراد کی تعداد بتائی، پولیس نے 400 بندہ گرفتار کرنا تھا اسلئے پولیس نے ایسے لوگوں کو بھی گرفتار کرلیا جو وہاں سے گزررہے تھے کیونکہ ٹاور کی لوکیشن وہاں سے آرہی ہے۔ پولیس نے ایسے لوگوں کو بھی گرفتار کیا ہے جو اپنے بیوی بچوں کیساتھ یہاں آئے ہوئے تھے یا یہاں اردگرد کہیں موجود تھے۔

شاہد ثقلین کے مطابق عائشہ اکرم کا کیس لوگوں کیلئے خوف کا باعث بنا ہوا ہے، پولیس اس کیس کی آڑ میں گرفتار کرتی ہے اور پھر پیسے لیکر چھوڑدیتی ہے یا پھر جو پیسے نہ دے اسے پکڑلیتی ہے کیونکہ 400 بندہ پورا کرنا ہے۔ملزمان کو لاری اڈے کے قریب ایک بخشی خانے میں رکھا گیا ہے جو ایک کرائے کی عمارت ہے جہاں سے 100 سے 150 بندہ آسکتا ہے۔

رپورٹر نے بتایا کہ عائشہ اکرم کے پیش نہ ہونے پر مختلف صحافیوں اور رپورٹرز نے عائشہ اکرم اور انکے وکیل کو فون کرکے وجہ جاننے کی کوشش کی لیکن وہ یا تو فون نہیں اٹھارہےیا موقف دینے سے انکار کررہے ہیں۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >