متنازع شہریت بل کے خلاف جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبا نے دیواریں نعروں سے رنگ دیں

بھارت میں متنازعہ شہریت بل کے خلاف احتجاج روز بروز بڑھتا جارہا ہے بھارتی دارالحکومت میں قائم جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی اس ایکٹ کے خلاف احتجاج کا مرکز بنی ہوئی ہے۔جامعہ کی دیواروں کو بھی گرافٹی کے ذریعے زبان دے دی گئی ہےبینرز اور پوسٹرز کے ساتھ ساتھ جامعہ کی دیواروں پر درج نعرے اور عبارتیں طلبہ کے احتجاج کو ایک الگ انداز میں پیش کر رہی ہیں۔

طلبہ نے نہایت پر اثر انداز میں جامعہ کی مختلف فیکلٹی کی دیواروں پراپنے جذبات کا اظہار کیا ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے طلبہ پر تشدد کرکے ان کی احتجاج دبانے کی کوشش کی جس پر طلبہ نے دیواروں پر مختلف قسم کے اشعار اور گرافٹی بنا کر یہ بتانے کی کوشش کی کہ تشدد کے ذریعے طلبہ کی آواز کو دبایا نہیں جاسکتا۔

https://www.facebook.com/dw.urdu/videos/507498820111875/

دیواروں پر گرافٹی اور اشعار کے ذریعے طلبہ نے جامعہ کے درو دیوار کو بھی اس احتجاج میں شامل کرلیا ہے۔ بعض تصاویر میں طلبہ نے مودی حکومت کی پالیسیوں کو ہٹلر کی نازی پارٹی کی ہولو کاسٹ پالیسی سے تشبیع دی ہے جن میں وزیراعظم نریندرا مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو ہٹلر کے روپ میں دکھایا گیا ہے ۔

شہریت ترمیمی ایکٹ میں پاکستان ، بنگلہ دیش اور افغانستان سے آنے والے تمام مذاہب کے لوگوں کو شہریت دینے کی بات کی گئی ہے لیکن اس میں مسلمانوں کو شامل نہیں کیا گیا ہے اس پر علی گڑھ یونیورسٹی سمیت کئی دیگر جامعات اور شہروں میں احتجاج کیا جارہا ہے۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>